اسرائیلی وزیر دفاع کا غزہ میں موجود رہنے اور چوکیوں کے قیام کا عزم
اسرائیلی وزیر دفاع کا غزہ میں موجود رہنے اور چوکیوں کے قیام کا عزم
منگل 23 دسمبر 2025 17:23
کاتز نے کہا کہ ’ہم غزہ کے اندر گہرائی تک موجود ہیں، اور ہم کبھی غزہ نہیں چھوڑیں گے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں موجود رہے گا اور فلسطینی علاقے کے شمال میں چوکیوں کے قیام کا وعدہ کیا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ان کا منگل کو ان کا یہ بیان اسرائیلی میڈیا میں وسیع پیمانے پر رپورٹ ہوا ہے، اور یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی ثالثی سے ہونے والا جنگ بندی معاہدہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں قائم ہے۔
ثالثین جنگ بندی کے اگلے مراحل پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جن میں اسرائیل کا علاقے سے انخلا شامل ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستی بیت ایل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کاتز نے کہا کہ ’ہم غزہ کے اندر گہرائی تک موجود ہیں، اور ہم کبھی غزہ نہیں چھوڑیں گے ایسا کبھی نہیں ہوگا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم وہاں حفاظت کے لیے ہیں تاکہ جو ہوا وہ دوبارہ نہ ہو۔‘
کاتز نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ شمالی غزہ میں ان چوکیوں کو قائم کریں گے جو 2005 میں اسرائیل کے یکطرفہ انخلا کے دوران خالی کی گئی بستیوں کی جگہ ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’جب وقت آئے گا، خدا نے چاہا تو ہم شمالی غزہ میں نہال چوکیوں کو ان کمیونٹیز کی جگہ قائم کریں گے جو اکھاڑ دی گئی تھیں۔‘ نہال چوکیاں فوجی و زرعی بستیاں ہیں جو اسرائیلی فوجیوں کے ذریعے قائم کی جاتی ہیں۔
کاتز کے بیانات پر سابق وزیر اور چیف آف سٹاف گادی آئزنکوٹ نے شدید تنقید کی، جنہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ’اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے اہم دور میں وسیع قومی اتفاق رائے کے خلاف کام کر رہی ہے۔‘
جمعرات کو کئی اسرائیلی فوجی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پٹی میں داخل ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’جب حکومت ایک ہاتھ سے ٹرمپ پلان کے حق میں ووٹ دیتی ہے، تو دوسرے ہاتھ سے وہ غزہ پٹی میں الگ تھلگ بستیوں کے بارے میں کہانیاں بیچتی ہے۔‘
ٹرمپ کے منصوبے کے اگلے مراحل میں اسرائیل کا غزہ سے انخلا، حماس کی جگہ علاقے پر حکمرانی کے لیے ایک عبوری اتھارٹی کا قیام اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی شامل ہے۔
اس منصوبے میں غزہ کو غیر عسکری بنانے کا تصور بھی شامل ہے، جس میں حماس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا شامل ہے، جسے گروپ نے مسترد کر دیا ہے۔
جمعرات کو کئی اسرائیلی فوجی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پٹی میں داخل ہوئے اور فلسطینی علاقے کے دوبارہ قبضے اور آبادکاری کے مطالبے کے لیے علامتی طور پر جھنڈا لہرانے کی تقریب منعقد کی۔