فلسطینی صدر کی ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر تعاون کی یقین دہانی
صدر محمود عباس نے کہا کہ یونان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ایک اہم پل کا کردار ادا کر سکتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی مشرقِ وسطیٰ میں ایک جامع اور منصفانہ امن کے قیام کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے پر مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
عرب نیوز کے مطابق صدر محمود عباس نے پیر کو رام اللہ میں یونانی وزیراعظم کیریاکوس مِتسوتاکیس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ یہ تعاون عالمی قراردادوں اور عرب امن اقدام کے عین مطابق ہونا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام لایا جا سکے۔
اس موقعے پر صدر محمود عباس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 پر فوری عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو روکنا اور اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا وہ بنیادی نکات ہیں جن پر عمل درآمد ناگزیر ہے تاکہ فلسطینی حکومت اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکے اور تعمیرِ نو کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔
فلسطینی صدر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ فلسطینی اداروں کو کمزور کرنے اور مسیحی و اسلامی مقدس مقامات کی بے حرمتی جیسے اقدامات سے باز رہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ (اسرائیلی) بستیوں کی مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے لیے سنگین خطرہ ہے جبکہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ٹیکسوں کی رکی ہوئی رقم کی واگزاری بھی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ملاقات کے دوران صدر محمود عباس نے امن کے قیام میں یونان اور یورپی یونین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ایک اہم پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب یونانی وزیراعظم کیریاکوس مِتسوتاکیس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کو زمینی حقائق کے حل کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور عملی فریم ورک قرار دیا۔
انہوں نے دو ریاستی حل کے لیے یونان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا تاہم فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یونان ’مناسب وقت‘ پر یہ قدم اٹھائے گا۔
یونانی وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں ترجیح انسانی بحران کا خاتمہ اور ایک ایسا سیاسی راستہ تلاش کرنا ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
