Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جب لتا اور رفیع نے تین سال تک ایک دوسرے کا بائیکاٹ کیے رکھا

رائلٹی کے معاملے پر بحث بڑھی تو محمد رفیع نے اعلان کیا کہ وہ لتا کے ساتھ نہیں گائیں گے (فوٹو:ایکسپریس آرکائیوز)
لتا منگیشکر اور محمد رفیع دونوں کا ہی شمار ہندی فلمی موسیقی کی تاریخ کے سب سے بڑے اور مقبول گلوکاروں میں ہوتا ہے۔ لیکن کیا آج جانتے ہیں کہ ان لیجنڈری گلوکاروں کے درمیان اس قدر اختلافات رہے کہ دونوں نے تین سال تک ایک ساتھ کوئی گانا ریکارڈ نہیں کرایا۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق لتا منگیشکر اور محمد رفیع نے پہلی بار 1947 میں فلم ’شادی سے پہلے‘ کے گانے ’چلو ہو گئی تیار‘ میں ساتھ کام کیا۔ اس گانے نے ہندی فلمی موسیقی کی تاریخ میں ایک بہترین ڈوئٹ جوڑی متعارف کروائی۔
اگلے چند برسوں میں انہوں نے ’مدر انڈیا‘، ’کوہِ نور‘، ’میرے محبوب‘ اور کئی دیگر فلموں کے لیے گایا اور 1960 کی دہائی تک یہ جوڑی موسیقی کی دنیا میں سب سے بہترین جوڑی سمجھی جانے لگی۔
لیکن 1963 میں کچھ ایسا ہوا جس نے ان کی کامیاب پارٹنر شپ کو دھندلا دیا۔
محمد رفیع ایک سادہ طبیعت انسان تھے جو گائیکی کو اپنا کام سمجھتے تھے اور فلمی کاروبار سے دور رہنا چاہتے تھے۔ فلم بزنس سے ان کی عدم دلچسپی ہی لتا منگیشکر کے ساتھ اختلاف کی وجہ بنی۔
ہالی وڈ میں ہر فنکارچاہے وہ گلوکار ہو، شاعر، اداکار یا ہدایتکار ہو، جو فلم یا ٹی وی پروجیکٹ میں کام کرتا ہے اسے اس کے کام کی رائلٹی ملتی رہتی ہے۔ یعنی پرانی فلم جتنی بار بھی ٹی وی پر چلے، پرانا گانا جتنی بار بھی ریڈیو پر بجے، فنکار کو اس کا معاوضہ ملتا ہے۔
یہ نظام اپس وقت انڈیا میں عام نہیں تھا، لیکن لتا منگیشکر نے اس کا فائدہ اٹھایا اور اپنے گانوں کی رائلٹی حاصل کی۔ لتا چاہتی تھیں کہ دیگر گلوکاروں کو بھی ان کا حق یعنی رائلٹی ملنی چاہیے جو بزرگ فنکاروں کے لیے پینشن کی طرح ہوتی ہے۔
اس کے لیے انہیں پوری موسیقی کی دنیا کی حمایت، اور سب سے بڑھ کر محمد رفیع کی حمایت درکار تھی کیونکہ وہ دونوں اس دور کے سب سے مشہور گلوکار تھے۔
2009 میں اخبار ممبئی مرر سے گفتگو میں لتا منگیشکر نے بتایا تھا کہ ’میں رائلٹی لے رہی تھی لیکن میں چاہتی تھی کہ دیگر فنکاروں کو بھی ان کا حق ملے۔ رفیع صاحب کو میری مہم کے خلاف کر دیا گیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’رفیع کچھ معصوم اور سادہ طبیعت کے انسان تھے، یا شاید بہت نیک تھے کہ مزید پیسہ مانگنے کی ضرورت نہ سمجھے۔ لہٰذا وہ پروڈیوسرز سے زیادہ پیسہ لینے کے خیال کے مخالف ہوگئے۔‘
یہ بحث بڑھتی چلی گئی اور اُس وقت کی مشہور میوزک کمپنی ایچ ایم وی نے کہا کہ اگر رائلٹی دی جائے تو یہ پروڈیوسرز کی جیب سے ہوگی جبکہ پروڈیوسرز کا کہنا تھا کہ کمپنی کو اخراجات اُٹھانے چاہییں۔
اس وقت لتا، مکیش اور طلعت محمود نے یہ مشورہ دیا کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اعلان کر دیں کہ وہ ایچ ایم وی کے لیے گانا نہیں گائیں گے، اور یہی بات دیگر تمام گلوکاروں تک بھی پہنچا دی گئی۔ لیکن اسی دوران لتا منگیشکر کو یہ معلوم ہواکہ محمد رفیع پہلے ہی اس میوزک کمپنی کے لیے گانے ریکارڈ کرا رہے ہیں۔
لتا منگیشکر نے بتایا کہ ایک میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ ہم جو گاتے ہیں اس کا پیسہ پروڈیوسرز سے ملتا ہے اور بس۔ پھر مکیش کی طرف دیکھ کر لتا کے بارے میں کہا، مجھے لگتا ہے یہ ‘مہارانی’ یہاں جو کہنا ہے کہہ دے گی۔ میں نے فوراً جواب دیا، ضرور میں مہارانی ہوں، لیکن آپ مجھے ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟‘
کچھ منٹوں میں ہی گرماگرمی بڑھ گئی اور محمد رفیع نے اعلان کیا کہ وہ لتا منگیشکر کے ساتھ نہیں گائیں گے۔ لتا نے جواب دیا کہ ’اگر آپ نہیں گائیں گے تو میں بھی نہیں گاؤں گی۔‘

اس تنازعے کے بعد تین سال تک دونوں نے ایک ساتھ گانے نہیں گائے جس کی وجہ سے وہ موسیقار مشکل میں پھنس گئے جو ڈوئیٹ گانے بنا رہے تھے۔
بلآخر میوزک کمپنی شنکر جیکیشن کے جیکیشن نے محمد رفیع سے لتا منگیشکر کے لیے معافی کا خط منگوایا اور سرد جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔
لتا منگیشکر بتاتی ہیں کہ  جب بھی وہ رفیع کو دیکھتیں، پرانی تلخی یاد آ جاتی تھی۔ بعد میں وہ کئی گانے دوبارہ ریکارڈ کرنے لگے اور اپنے اختلاف پر ہنس کر بات کرتے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ رائے کا اختلاف رائلٹی سے پہلے بھی تھا لیکن اس بارے میں کبھی کُھل کر بات نہیں ہوئی۔ رائلٹی کا مسئلہ انڈیا میں 2012 میں کاپی رائٹ ایکٹ کی ترمیم کے بعد حل ہوا۔
لتا منگیشکر کے مطابق محمد رفیع کے ساتھ ان کا تعلق کبھی دشمنی پر مبنی نہیں تھا بلکہ پیشہ ورانہ مقابلہ اور اختلافِ رائے کی بنیاد پر تھا۔ وہ ہمیشہ محمد رفیع کی محنت، لگن اور سادگی کی تعریف کرتی رہیں۔
1977 میں لتا منگیشکر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 25,000 گانے ریکارڈ کیے ہیں اور اور گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈز کو اس حوالے سے ایک خط لکھا جسے محمد رفیع نے چیلنج کیا۔ بعد میں حقیقی تعداد کے حساب سے دونوں کے نام گینز بک سے ہٹا دیے گئے کیونکہ لتا نے 1989 تک 5,066 اور محمد رفیع نے تقریباً 4,400 گانے ریکارڈ کیے تھے۔
محمد رفیع 1980 میں 56 سال کی عمر میں چل بسے جبکہ لتا منگیشکر 2022 میں 93 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔

 

شیئر: