Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب حکومت اور عدلیہ میں ’ٹکراؤ‘، ’مریم نواز اپنا بیان واپس لیں‘

پیر کو بھی لاہور ہائی کورٹ میں متعدد ایسے کیسز پر عدالتوں نے حکم امتناعی جاری کیے جو ماضی میں اس نئے قانون کے اطلاق کے بعد عدالتوں میں زیرِسماعت تھے۔ (فائل فوٹو: ایکس)
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں عدلیہ اور صوبائی حکومت کے درمیان پہلی مرتبہ قانونی معاملات پر مخاصمت کی سی صورت حال ہے۔ اس تنازع کی وجہ پنجاب حکومت کا قبضہ مافیہ کے خلاف لایا جانے والا قانون پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 ہے، جس سے ضلعی انتظامیہ خاص طور پر ڈپٹی کمشنرز کو وہ اختیارات سونپے گئے تھے جو سول ججز کو حاصل ہیں، یعنی متنازع زمینوں کے فیصلے کرنا۔
پاکستانی سیاست میں جاری کئی برسوں کی چپلقش میں تمام وکلا تنظیمیں یک زبان ہو کر کسی ایک مسئلے پر اکٹھی نہیں ہوئی ہیں۔ خواہ 26 ویں ہو یا 27 ویں آئینی ترامیم ہوں، یا اعلٰی عدلیہ کے ججز اور حکومت کے درمیان تنازع، وکلا تنظیموں کا بڑا حصہ ان معاملات سے الگ رہا ہے۔
تاہم لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب حکومت کے درمیان حالیہ تنازعے میں تمام کی تمام وکلا تنظیمیں یک زبان ہو کر حکومت کے خلاف بیان دے رہی ہیں۔ اور وزیراعلٰی مریم نواز کے گذشتہ روز منگل کے بیان کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین اس کو غیرمعمولی صورت حال قرار دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں پروفیشنل گروپ یعنی تحریک انصاف کے بانی رہنما حامد خان اقتدار میں ہیں، جبکہ سپریم کورٹ بار، پاکستان بار اور پنجاب بار میں انڈپینڈنٹ گروپ یعنی احسن بھون گروپ اقتدار میں ہے۔ اسی گروپ بندی کی وجہ سے یہ دھڑے کبھی ایک مسئلے پر متحد نہیں ہو پائے۔
اردو نیوز نے اس اچانک اکٹھ کی وجہ جاننے کے لیے ممبر پاکستان بار کونسل احسن بھون سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس کو گٹھ جوڑ کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ یہ اصول کی بات ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم ایک غیرمتنازع چیف جسٹس ہیں۔ حکومت کو ان سے عوام میں جا کر الجھنے کی بجائے اپنے کیس کا عدالت میں دفاع کرنا چاہیے تھا۔ ایک تو عدالت کا یہ فیصلہ درست تھا کہ عدالتی معاملات عدالتیں دیکھیں نہ کہ ڈپٹی کمشنر۔ اور ہم عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس نئے قانون کو ابھی تو معطل کیا ہے لیکن اسے مکمل طور پر ختم کیا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وزیراعلٰی مریم نواز کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنا بیان واپس لیں۔ اگر حکومت عدالت سے لڑائی کی طرف جاتی ہے تو ایک بات واضح ہے کہ تمام وکلا تنظیمیں عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ہم یہ بیان سوچ سمجھ کر متفقہ طور پر دے رہے ہیں۔ اگر ہمیں سڑکوں پر نکلنا پڑا تو اس سے بھی گریز نہیں کریں گے۔‘

وکیل رہنما احسن بھون نے کہا کہ ’ہم عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس نئے قانون کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔‘ (فائل فوٹو: وائس ڈاٹ پی کے)

پیر کو بھی لاہور ہائی کورٹ میں متعدد ایسے کیسز پر عدالتوں نے حکم امتناعی جاری کیے جو ماضی میں اس نئے قانون کے اطلاق کے بعد عدالتوں میں زیرِسماعت تھے۔ جبکہ اب ان تمام درخواستوں کو یکجا کر دیا گیا ہے جہاں لارجر بینچ ان کی سماعت کرے گا۔
تو کیا پنجاب میں حکومت اور عدلیہ کا ٹکراؤ ہونے جا رہا ہے؟ اس حوالے سے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔
’پنجاب حکومت اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور قبضہ مافیا کے خلاف جنگ کو حتمی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ حکومت اس قانون کا عدالت میں بھر پور دفاع کرے گی۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ فیصلہ عوام کے حق میں آئے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جن غریب لوگوں کی زمینوں پر 20، 20 برس سے لوگ قبضہ کر کے بیٹھے تھے اور کیسے انہیں قبضے واپس ملے، ان سے پوچھیں۔ وہ جھولیاں اٹھا اٹھا کر وزیراعلٰی مریم نواز کو دعائیں دے رہے تھے۔‘

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حکومت اس قانون کا عدالت میں بھر پور دفاع کرے گی۔ (فائل فوٹو: پی ٹی وی)

عدالت نے ابھی تک طے نہیں کیا کہ کب سے لاجر بینچ باقاعدہ سے ان درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مریم نواز کی حکومت کو کسی عدالت نے سخت جواب دہ بنایا ہے۔

 

شیئر: