الفاو کے آثارِ قدیمہ عالمی ورثہ قرار، یاد گاری ٹکٹ کا اجرا
یہ یونیسکو میں رجسٹرڈ ہونے والی سعودی عرب میں آٹھویں سائٹ ہے (فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی پوسٹ نے الفاو میں دریافت ہونے والے آثارِ قدیمہ کے، یونیسکو کے عالمی ورثے کی سائٹ پر رجسٹر ہونے کا جشن منانے کے لیے، تین ریال کے یادگاری ٹکٹ جاری کیے ہیں۔
الفا، سعودی عرب میں آٹھویں ایسی سائٹ کا درجہ اختیار کر گئی ہے جس کا اندارج یونیسکو کے عالمی ورثے کی معتبر فہرست پر موجود ہے۔
ریاض کے جنوب میں کھلے قطعۂ زمین اور الطویق پہاڑی سلسلے کے سنگم پر واقع الفاو، قدیم تجارتی راستوں کے حوالے سے سٹرٹیجک اہمیت کا حامل رہا ہے۔
یہ راستے جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی حصوں کو اس کے مرکز اور مشرقی حصے سے جوڑا کرتے تھے۔
وادی الدواسر کا علاقہ جو ربع الخالی صحرا اور الطویق کے پہاڑی سلسلے کے اتصال پر واقع ہے۔

یہاں تقریباً بارہ ہزار کے قریب آثارِ قدیمہ کے نشان ملے ہیں۔ اس مقام پر آج سے چھ ہزار سال قبل انسان کے بسنے کے تاریخی شواہد بھی پائے گئے ہیں۔
اس سائٹ کا لینڈ سکیپ، ہزاروں برس سے انسانی گزرگاہ اور لوگوں میں ارتباط ہونے کی وجہ سے آج ایک مخصوص شکل میں موجود ہے، لیکن پانی کی وسائل کی قلت کی وجہ سے پانچ صدی عیسوی میں اسے ترک کر دیا گیا تھا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یادگاری ٹکٹ اہم قومی اور بین الاقوامی ایونٹس کو یادگار بنانے اور ان کے اعزاز میں جاری کی جاتی ہیں۔

ان کا مقصد سعودی تاریخ کے کلیدی ابواب کو نمایاں کرنا ہوتا ہے۔ ان ٹکٹوں کو میراث کے شوقین افراد جمع کرتے ہیں، کچھ ان سے تاریخ کے اہم نکات پر توجہ کرتے ہیں جبکہ کچھ ان پر تحقیق کرتے ہیں۔
یونیسکو نے الفاو کی سائٹ کو گزشتہ برس باضابطہ طور پر رجسٹر کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ سائٹ جزیرہ نمائے عرب کے قدیم تجارتی راہوں کا ایک سٹریٹیجک مقام تھا۔ لیکن پانچویں صدی میں اسے اچانک ترک کر دیا گیا۔ اس مقام پر آثارِ قدیمہ کے باقیات سے مکمل طور پر تاحال پردہ نہیں اٹھایا گیا۔
