Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورہ پاکستان، نور خان ایئر بیس پر پرتپاک استقبال

متحدہ عرب امارات کے صدر پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر نور خان ایئربیس پہنچ گئے ہیں۔ ہوائی اڈے پر پاکستان کے وزیراعظم، وزیر خارجہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے مہمان صدر کا استقبال کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس دورے کے ایجنڈے پر تجارت اور علاقائی استحکام کے حوالے سے بات چیت سرفہرست ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ کو بتایا تھا کہ ’متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان 26 دسمبر کو پاکستان کا دورہ کریں گے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا جائزہ، علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال اور اسلام آباد کے یو اے ای کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر گفتگو ہوگی۔‘
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق ’صدر النہیان کا متحدہ عرب امارات کے صدر کی حیثیت سے یہ پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہو گا۔ وہ اپنے وزراء اور سینیئر حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ پاکستان پہنچیں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’امارات کے صدر کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی گہرائی اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ترقی اور علاقائی استحکام سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے دونوں فریقوں کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘
’متحدہ عرب امارات کے صدر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔‘
دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔
دفتر خارجہ سے یہ اعلان وزیراعظم شہباز شریف کی اسلام آباد میں متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد سالم البواب الزابی سے ملاقات کے ایک روز بعد کیا گیا تھا۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھائیں۔ 

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی نور خان ایئر بیس راولپنڈی آمد کے موقع پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

عرب نیوز کے مطابق پاکستان متحدہ عرب امارات کو اپنے قریبی اقتصادی اور علاقائی اتحادیوں میں شمار کرتا ہے۔ امارات اسلام آباد کا چین اور امریکہ کے بعد تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 
پاکستان میں پالیسی ساز متحدہ عرب امارات کو اس کی جغرافیائی قربت کی وجہ سے ایک بہترین برآمدی مقام سمجھتے ہیں، جس کے تجارتی لین دین میں نقل و حمل اور مال برداری کے اخراجات کم ہونے کی وجہ سے سہولت رہتی ہے۔
پاکستان کی نظریں خلیجی ریاستوں کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے پر مرکوز ہیں اور دونوں ممالک نے حال ہی میں اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ 
جنوری 2024 میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ریلوے، اقتصادی زونز اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کے لیے تین ارب ڈالر سے زائد کے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

 

شیئر: