Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مظاہروں میں سینکڑوں ہلاک: ایرانی قیادت نے ’مذاکرات‘ کے لیے رابطہ کیا، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی لیڈرشپ نے ان سے رابطہ کر کے ’بات چیت‘ کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر نے ایران کو دھمکی تھی کہ اگر مظاہرین کو ہلاک کیا گیا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔
اسی طرح مظاہروں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پچھلے دو ہفتوں کے دوران ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والا احتجاج کریک ڈاؤن کے باوجود شدید تر ہوا ہے اور انسانی حقوق کے گروپس نے خبردار کیا ہے کہ وہ ’قتل عام‘ بنتا جا رہا ہے۔
اس احتجاج کا آغاز پچھلے برس کے اختتام کے دنوں میں ہوا تھا جو کہ بنیادی طور پر مہنگائی کے خلاف تھا اور اب یہ 1979 کے انقلاب کے نتیجے میں بننے والی مذہبی حکومت کے لیے سنگین چیلنج کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
کئی روز سے انٹرنیٹ بند ہونے کے باوجود ایران سے معلومات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، سامنے آنے والی ویڈیوز میں پچھلے تین روز کے دوران تہران اور دوسرے شہروں میں ہونے والے مظاہرے دیکھے جا سکتے ہیں۔
مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں تک پہچنے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں جبکہ تصاویر میں مردہ خانے کے باہر لاشوں کے ڈھیر لگے دکھائی دیتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’تہران نے مذاکرات کی طرف بڑھنے کی خواہش کا اشارہ دیا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ایران کی قیادت نے کل رابطہ کیا تھا۔، میٹنگ کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ نے کہا کہ تہران نے مذاکرات کی طرف بڑھنے کی خواہش کا اشارہ دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی علما پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ کو 2022 کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے مظاہروں کا سامنا ہے اور صدر ٹرمپ کئی بار دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکہ مداخلت کرے گا۔
قبل ازیں ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس ان ایران (ھرانا) گروپ جو ایران کے اندر اور باہر کارکن رکھتا ہے، نے 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ ایک ہزار 600 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
ایرانی کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ میں اتوار کے روز امریکہ کو وارننگ دی تھی کہ ’اس کے اندازے غلط ہیں۔‘
محمد باقر قالیباف جو پاسداران انقلاب فورس کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں، کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ ایران پر حملے کی صورت میں اسرائیل اور امریکی اڈے اور بحری ہمارا جہاز قانونی ہدف ہوں گے۔‘
ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج 28 دسمبر کو شروع ہوا تھا جس کا رخ بعدازاں حکومت کی طرف ہو گیا۔
تہران حکام نے الزام لگایا ہے کہ بدامنی کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

ایران میں 28 دسمبر کو مہنگائی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

ایرانی پولیس چیف احمد رضا رادان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ’فسادیوں‘ سے نمٹنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
سنیچر کو تہران کی ایک فوٹیج سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جس میں رات کے وقت بہت بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر مارچ کرتے، تالیاں بجاتے اور نعرے لگاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے کہ ’ہجوم کا نہ کوئی سِرا ہے اور نہ اخیر‘
شمال مشرقی شہر مشہد کی ایک فوٹیج میں سڑک پر لگی آگ، نقاب پوش مظاہرین اور ملبے سے اٹی ہوئی سڑک کو دیکھا جا سکتا ہے جس میں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔
سنیچر کو ہی شیئر کی گئی ایک اور ویڈیو میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مداخلت کی دھمکی دی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

سرکاری ٹیلی ویژن پر اتوار کو نشر ہونے والے مناظر میں تہران کورونز آفس میں زمین پر پڑے باڈی بیگ نظر آتے ہیں اور بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ’مسلح دہشت گردوں‘ کا نشانہ بنے۔
تین اسرائیلی سورسز جو سینچر کے آخری گھنٹوں میں ہونے والی سکیورٹی مشاورت میں شریک تھے، کا کہنا ہے اسرائیل کسی بھی امریکی مداخلت کے لیے ہائی الرٹ ہے۔
ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ ’مظاہرے ایران کا اندرونی معاملہ ہیں مگر اسرائیلی فوج پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘
تاہم دوسری جانب اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے اس بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان پچھلے برس جون کے مہینے میں 12 روز کی جنگ بھی ہوئی تھی جس میں مختصر طور پر امریکہ بھی شامل ہوا تھا اور اہم جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔
اس کے جواب میں ایران نے قطر اور اسرائیل میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر میزائل داغے تھے۔

 

شیئر: