صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ ویزے منسوخ کیے گئے
ٹرمپ انتظامیہ نے چھ لاکھ سے زیادہ افراد کو ملک بدر کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک سال میں ریکارڈ سطح پر ایک لاکھ سے زیادہ ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ کے لیے امریکی شہریوں کا تحفظ اور امریکی خودمختاری کو برقرار رکھنا سب سے بڑی ترجیح ہے۔‘
20 جنوری 2025 کو ٹرمپ کے دوسرے حلف برداری کے بعد سے یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ ہے جب جو بائیڈن صدر تھے۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ ’ہزاروں‘ ویزے جرائم کی بنیاد پر منسوخ کیے گئے، جن میں حملہ اور نشے میں گاڑی چلانا شامل ہو سکتا ہے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فخر سے ان طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کو اجاگر کیا ہے جنہوں نے اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
روبیو نے ایک مکارتھی دور کے قانون کا استعمال کیا جو امریکہ کو ان غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی لگانے کی اجازت دیتا ہے جو امریکی خارجہ پالیسی کے خلاف سمجھے جاتے ہیں، حالانکہ ان کے کچھ نمایاں ہدف عدالت میں ملک بدری کے احکامات کو کامیابی سے چیلنج کرنے میں کامیاب رہے۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ منسوخ کیے گئے ویزوں میں سے آٹھ طلبہ کے تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ویزوں کے لیے جانچ سخت کر دی ہے جس میں کی سوشل میڈیا پوسٹس کی سکریننگ بھی شامل ہے۔
یہ ویزہ منسوخیاں بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم کا حصہ ہیں، جو وفاقی ایجنٹوں کے ذریعے جارحانہ انداز میں کی جا رہی ہیں۔
گزشتہ ماہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے چھ لاکھ سے زیادہ افراد کو ملک بدر کیا ہے، اور 25 لاکھ دیگر افراد خود ہی ملک چھوڑ گئے۔
