سوڈان کے وزیرِ اعظم کامل ادریس نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ حکومت نے اپنی جنگی دارالحکومت پورٹ سوڈان سے واپس خرطوم منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سوڈانی حکومت تین سال تک پورٹ سوڈان میں کام کرتی رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خرطوم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کامل ادریس نے کہا ’آج ہم واپس آ گئے ہیں، اور ’امید کی حکومت‘ قومی دارالحکومت میں واپس آ گئی ہے۔‘
مزید پڑھیں
خیال رہے دارالحکومت خرطوم فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ سے بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا ’ہم آپ سے بہتر خدمات، بہتر صحت کی سہولیات، ہسپتالوں کی تعمیرِ نو، تعلیمی خدمات کی ترقی، اور بجلی، پانی اور صفائی کی سہولیات میں بہتری کا وعدہ کرتے ہیں۔‘
تقریباً دو برس تک سوڈان کا دارالحکومت، جو خرطوم، ام درمان اور خرطوم شمالی (بحری) کے تین شہروں پر مشتمل ہے، ایک فعال جنگی میدان بنا رہا۔
پورے کے پورے محلے محاصرے میں رہے، متحارب جنگجو دریائے نیل کے پار ایک دوسرے پر توپ خانے سے گولہ باری کرتے رہے، اور لاکھوں افراد شہر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق مارچ سے اکتوبر کے درمیان 12 لاکھ افراد خرطوم واپس لوٹے۔
بہت سے لوگوں کو ایک ایسا شہر ملا جہاں بنیادی خدمات بمشکل کام کر رہی تھیں، ان کے گھر تباہ ہو چکے تھے، اور محلے عارضی قبروں سے بھرے ہوئے تھے جنہیں حکام اب نکال رہے ہیں۔
اندازہ ہے کہ صرف دارالحکومت میں ہی جنگ کے باعث دسیوں ہزار افراد ہلاک ہوئے، تاہم مجموعی تعداد معلوم نہیں، کیونکہ بہت سے خاندان اپنے مرنے والوں کو عارضی قبروں میں دفنانے پر مجبور ہوئے۔












