Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زیلنسکی اور پوتن امن کے حوالے سے سنجیدہ ہیں: صدر ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جو معاہدہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے وہ یوکرین کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا  ہے کہ ان کے خیال میں یوکرین اور روس کے رہنما امن کے حوالے سے سنجیدہ ہیں، کیونکہ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کے ’آخری مراحل‘ میں دونوں رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار کو یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا اپنی فلوریڈا میں واقع نجی سٹیٹ میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے، تاہم وہ اس برس کے اختتام سے قبل سفارتی سرگرمیوں میں تیزی لا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے پہلے ہی دن جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اکتوبر میں زیلنسکی کی ٹرمپ سے آخری ملاقات کی طرح اس بار بھی روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے ملاقات سے کچھ دیر قبل امریکی صدر سے ٹیلی فون پر بات کی۔ اس کے فوراً بعد ٹرمپ نے ماسکو کے ساتھ تعاون کے حوالے سے نئی امید کا اظہار کیا، جبکہ روس واشنگٹن اور یورپ میں یوکرین کے اتحادیوں کی جانب سے مزید سخت دباؤ سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹرمپ کا یہ نیا مثبت موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپ میں پیوتن کے عزائم پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ روس نے یوکرینی دارالحکومت کئیف پر ایک اور بڑے حملے کیے، عین اس وقت جب زیلنسکی فلوریڈا روانہ ہو رہے تھے۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان حملوں کے باوجود پیوتن امن کے لیے سنجیدہ ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ’وہ بہت سنجیدہ ہیں۔‘
ٹرمپ نے اپنی سٹیٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ یوکرین نے بھی کچھ بہت مضبوط حملے کیے ہیں، اور میں یہ بات منفی انداز میں نہیں کہہ رہا۔ میرا خیال ہے کہ شاید ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘
مذاکرات کے آغاز سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ پیوتن کے ساتھ ان کی گفتگو ’انتہائی نتیجہ خیز‘ رہی۔
زیلنسکی کے ساتھ کھڑے ہو کر، جو داخلی دروازے پر کیمروں کے سامنے ان سے ایک قدم نیچے کھڑے تھے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جو معاہدہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے وہ یوکرین کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا۔

صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا اپنی فلوریڈا میں واقع نجی سٹیٹ میں خیرمقدم کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ’ایک سکیورٹی معاہدہ ہو گا، اور یہ ایک مضبوط معاہدہ ہو گا۔‘
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’یورپی ممالک اس میں بھرپور طور پر شامل ہوں گے۔ تحفظ اور دیگر معاملات میں ان کا کردار بہت اہم ہو گا۔‘
اس سے قبل صدر ٹرمپ کے مشیروں نے یوکرین کو نیٹو طرز کی سکیورٹی ضمانتیں دینے کا خیال بھی پیش کیا تھا، جس کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر روس دوبارہ حملہ کرے تو نیٹو کے رکن ممالک فوجی جواب دیں گے۔

 

شیئر: