جرائم کی تفتیش کرنے والی اعلٰی ترین روسی ایجنسی کی ترجمان سویتلانا پیٹرینکو نے بتایا کہ ’مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے آپریشنل ٹریننگ ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فانیل سروروف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔‘
ترجمان پیٹرینکو نے کہا کہ ’تفتیش کار اس قتل کے حوالے سے کئی زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس جرم کی منصوبہ بندی یوکرین کی انٹیلیجنس سروسز کی طرف کی گئی۔‘
لگ بھگ چار سال قبل جب سے ماسکو نے یوکرین میں فوج بھیجی ہے تب سے روسی حکام نے یوکرین کو روس میں متعدد فوجی افسران اور عوامی شخصیات کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یوکرین نے ان میں سے بعض کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم حالیہ واقعے پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
روسی صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ صدر ولادیمیر پوتن کو سروروف کے قتل کے بارے میں فوری طور پر مطلع کر دیا گیا تھا۔
وزارت دفاع نے کہا کہ سروروف اس سے قبل چیچنیا میں لڑ چکے تھے اور انہوں نے شام میں ماسکو کی فوجی مہم میں بھی حصہ لیا تھا۔
ایک سال قبل روس کی نیوکلیئر، بائیولوجیکل اور کیمیکل پروٹیکشن فورسز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل آئگور کیریلوف کو اُن کے اپارٹمنٹ کے باہر بم دھماکے میں قتل کیا گیا تھا۔ اُن کے ایک معاون بھی اس حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
یوکرین کی سکیورٹی سروس نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
روسی حکام نے ایک ازبک شہری کو اس قتل کے بعد حراست میں لیا تھا کہ اُس نے یوکرین کی سکیورٹی سروس کی ایما پر بم نصب کیا تھا۔
ایک سال کے عرصے میں روسی فوج کے تین سینیئر عہدیدار بم حملوں میں مارے گئے۔ فوٹو: اے ایف پی
صدر پوتن نے جنرل آئگور کی ہلاکت کو روسی سکیورٹی ایجنسیوں کی بہت بڑی کوتاہی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس غلطی سے سیکھنا چاہیے اور اہلکاروں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانی چاہیے۔
رواں سال اپریل میں روس کی فوج کے سینیئر عہدیدار لیفٹیننٹ جنرل یاروسلیف موسکالک کو بھی دھماکہ خیز مواد کے ذریعے قتل کیا گیا تھا۔ وہ روسی فوج کے جنرل سٹاف میں آپریشنل ڈیپارٹمنٹ کے نائب سربراہ تھے۔
دھماکہ خیز مواد ماسکو سے باہر اُن کی رہائش گاہ کے قریب کھڑی اُن کی کار میں نصب کیا گیا تھا۔ اس حملے میں ملوث ایک شخص کو فوری طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔