روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف سے ماسکو میں ملاقات کی۔ اس سے قبل انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ روس اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے کی غرض سے لڑائی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
روسی صدر کے سینیئر مشیر یوری اوشاکوف نے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ’ہمارا اتفاق نہیں ہو سکا تاہم امریکی تجاویز میں سے کچھ پر بات ہو سکتی ہے۔ کچھ پیش کردہ تجاویز ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں، اور کام جاری رہے گا۔‘
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اعتراف کیا کہ جنگ ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ان کے بقول، ’یہ بہت مشکل صورتحال ہے۔‘
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ کی میٹنگ کے دوران کہا کہ ’ہمارے لوگ اس وقت روس میں موجود ہیں یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا ہم اس معاملے کو طے کر سکتے ہیں۔ یہ آسان صورتحال نہیں ہے۔‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز کو بتایا کہ روس کے ساتھ بات چیت میں ’کچھ پیش رفت‘ ضرور ہوئی ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ کسی بھی امن منصوبے میں جنگ کا مکمل خاتمہ ضروری ہے، محض وقتی جنگ بندی نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین کے مستقبل سے متعلق فیصلے اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتے۔
ولادیمیر پوتن نے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف سے ماسکو میں ملاقات کی (فوٹو: روئٹرز)
جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف نے روسی صدر کو امریکہ کے نئے ترمیم شدہ امن منصوبے سے آگاہ کیا۔ روس کی خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف کے مطابق ابتدائی منصوبہ چار حصوں پر مشتمل تھا جن پر پانچ گھنٹے تک بات چیت ہوئی، تاہم کئی تجاویز پر روس نے ’منفی ردعمل‘ ظاہر کیا۔
روس کا مطالبہ ہے کہ یوکرین اپنے وہ علاقے چھوڑ دے جن پر ماسکو اپنا حق جتاتا ہے جبکہ وہ یوکرین میں کسی یورپی امن فورس کی موجودگی بھی قبول نہیں کرتا۔
ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’سب سے مشکل مسائل زیر قبضہ علاقے، منجمد روسی اثاثے اور سکیورٹی ضمانتیں ہیں۔‘
اس کے باوجود روس کی خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے مذاکرات کو ’مفید‘ قرار دیا۔
’جنگ ہوئی تو روس سے مذاکرات کے لیے کوئی نہیں بچے گا‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے منگل کو یورپی طاقتوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے روس کے ساتھ جنگ شروع کی تو ماسکو لڑنے کے لیے تیار ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس یورپ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا (فوٹو: روئٹرز)
یوکرین اور یورپی طاقتوں نے بارہا خبردار کیا کہ اگر ولادیمیر پوتن یوکرین کی جنگ جیت گئے تو وہ نیٹو کے رکن ملک پر حملہ کر سکتے ہیں تاہم روسی صدر نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
جب ایک صحافی نے روسی میڈیا پر شائع ہونے والی رپورٹ کے بارے میں سوال کیا کہ ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیجارٹو نے خبردار کیا ہے کہ یورپ روس کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے، تو صدر پوتن نے کہا کہ روس یورپ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔
’اگر یورپ اچانک ہم سے جنگ شروع کرنا چاہے اور شروع کر دے تو یورپ کے لیے یہ اتنی جلد ختم ہو جائے گی کہ کوئی بھی نہیں بچے گا جس کے ساتھ روس مذاکرات کر سکے۔‘