Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل یوکرینی صدر کی کینیڈا و یورپی رہنماؤں سے مشاورت

صدر زیلنسکی کی امریکی صدر سے رات کو ملاقات متوقع ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے پہنچنے سے قبل یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اتحادی ملکوں کے سربراہوں سے گفتگو میں اپنے لیے حمایت حاصل کی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر زیلنسکی کی اتحادیوں سے ملاقاتیں اور گفتگو ایسے وقت ہوئی جب دارالحکومت کیئف پر روس نے ڈرونز سے حملے کیے۔
امریکی ریاست فلوریڈا میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے پہنچنے سے قبل یوکرینی صدر نے پڑوسی ملک کینیڈا میں مختصر قیام کیا اور اس دوران وزیراعظم مارک کارنی سے گفتگو کی۔
اسی دوران ایک کانفرنس فون کال میں انہوں نے یورپی یونین، نیٹو اور یورپی ملکوں کے سربراہوں سے گفتگو میں صورتحال سے آگاہ کیا جنہوں نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے مطابق صدر زیلنسکی کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ وہ ’ایک منصفانہ اور دیرپا امن کا خیرمقدم کرتی ہیں جو یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو محفوظ رکھے۔‘
صدر زیلنسکی نے کہا کہ روسی حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو کا فروری 2022 میں شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس لڑائی میں دسیوں ہزار لوگ مارے گئے ہیں۔
صدر زیلنسکی نے کینیڈین وزیراعظم سے ملاقات سے قبل کہا تھا کہ ’یہ حملہ پھر سے ہماری امن کوششوں پر روس کا جواب ہے۔ اور اس نے واقعی ظاہر کیا کہ پوتن امن نہیں چاہتے اور ہم امن چاہتے ہیں۔‘
وزیراعظم کارنی نے کہا کہ تازہ ترین روسی حملے نے یوکرین کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت اجاگر کی ہے۔
کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ ’ہمارے پاس ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے شرائط موجود ہیں، لیکن اس کے لیے روس کی آمادگی شرط ہے، اور جو بربریت ہم نے رات کو دیکھی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا یوکرین کے ساتھ کھڑا ہونا کتنا ضروری ہے۔‘
روس نے یوکرین اور اس کے یورپی حمایتیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنگ کو روکنے کے لیے امریکی ثالثی کے سابقہ ​​منصوبے کو ’اُڑانے‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔
میدان جنگ میں دباؤ بڑھاتے ہوئے روس نے سنیچر کو اعلان کیا کہ اس نے مشرقی یوکرین کے دو مزید قصبوں، میرنوگراڈ اور گلیاپول پر قبضہ کر لیا ہے۔

صدر زیلنسکی نے کہا کہ تقریباً 500 ڈرونز اور 40 میزائلوں نے دارالحکومت کو نشانہ بنایا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سنیچر کو کہا تھا کہ ’اگر کیئف میں حکام اس معاملے کو پرامن طریقے سے طے نہیں کرنا چاہتے ہیں تو ہم فوجی طریقوں سے اپنے سامنے موجود تمام مسائل کو حل کریں گے۔‘

’وہ جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے‘

یوکرین کے حکام نے بتایا کہ رات بھر ڈرونز اور میزائلوں کی بارش نے کیئف کو تقریباً 10 گھنٹے تک نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں دو افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق منجمد کر دینے والے درجہ حرارت کے دوران علاقے کے دس لاکھ سے زیادہ باشندوں کی بجلی اور حرارتی نظام کو سپلائی ان حملوں کی وجہ سے منقطع ہو گئی۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ تقریباً 500 ڈرونز اور 40 میزائلوں نے دارالحکومت اور اس کے آس پاس کے علاقے کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ’روسی نمائندے کافی وقت سے بات چیت میں مصروف ہیں، لیکن درحقیقت میزائل اور ڈرونز ان کی جگہ بولتے ہیں۔‘

 

شیئر: