صدر ٹرمپ، نیتن یاہو غزہ امن معاہدے کے اگلے مرحلے پر بات کریں گے
توقع ہے کہ مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران غزہ میں رکے ہوئے جنگ بندی عمل میں پیش رفت پر زور دیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادرے روئٹرز کے مطابق اس ملاقات میں لبنان میں حزب اللہ اور ایران سے متعلق اسرائیل کے خدشات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔
نیتن یاہو نے اس ماہ کہا تھا کہ ٹرمپ نے انہیں بات چیت کے لیے مدعو کیا ہے، جبکہ واشنگٹن فلسطینی علاقے کے لیے عبوری حکمرانی اور ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورس کے قیام کی کوشش کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد اسرائیلی رہنما سے ملاقات کر سکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی۔
وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات سے متعلق تبصرے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔ توقع ہے کہ نیتن یاہو صدر ٹرمپ کے مار-اے-لاگو بیچ کلب کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے نے 22 دسمبر کو کہا تھا کہ بات چیت میں غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے ساتھ ساتھ ایران اور لبنان پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
واشنگٹن نے تینوں محاذوں پر جنگ بندی میں ثالثی کی، لیکن اسرائیل کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اس کے مخالفین جنگ میں کمزور ہونے کے بعد دوبارہ اپنی قوت بحال کر سکتے ہیں۔
غزہ جنگ بندی منصوبے کے اگلے اقدامات
اکتوبر میں تمام فریقوں نے صدر ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے سے اتفاق کیا تھا، جس کے تحت اسرائیل کو غزہ سے انخلا کرنا ہے، حماس کو اپنے ہتھیار چھوڑنے ہیں اور علاقے میں حکمرانی کا کردار ترک کرنا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے کہا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے میں تجویز کردہ عبوری انتظامیہ ، جس میں ’بورڈ آف پیس‘ اور فلسطینی ماہرین پر مشتمل ایک ادارہ شامل ہے، جلد قائم کی جائے تاکہ غزہ کی حکمرانی سنبھالی جا سکے۔
تاہم اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتے رہے ہیں، اور اگلے مرحلے میں درکار زیادہ مشکل اقدامات کو قبول کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔
حماس، جس نے اسلحہ ترک کرنے سے انکار کیا ہے اور آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات واپس نہیں کیں، دوبارہ اپنا کنٹرول مضبوط کر رہی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج تقریباً نصف علاقے میں بدستور موجود ہے۔
اسرائیل نے اشارہ دیا ہے کہ اگر حماس نے پُرامن طور پر اسلحہ نہیں چھوڑا تو وہ اسے مجبور کرنے کے لیے دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر دے گا۔
اگرچہ لڑائی میں کمی آئی ہے، مگر یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اکتوبر میں جنگ بندی کے باضابطہ آغاز کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
لبنان میں جنگ بندی بھی آزمائش کا شکار
لبنان میں امریکہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی، جو نومبر 2024 میں طے پائی تھی، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زائد جاری لڑائی کے خاتمے کا سبب بنی۔ اس معاہدے کے تحت ایران کی حمایت یافتہ طاقتور شیعہ گروہ حزب اللہ کو اسلحہ چھوڑنا تھا، جس کا آغاز اسرائیل کے قریب دریا کے جنوب میں واقع علاقوں سے ہونا تھا۔
لبنان کا کہنا ہے کہ وہ سال کے اختتام تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے ہدف کے قریب ہے، تاہم یہ گروہ ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کی مزاحمت کر رہا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ پیش رفت جزوی اور سست ہے، اور وہ لبنان میں تقریباً روزانہ حملے کر رہا ہے، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ حزب اللہ کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ہیں۔
