Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کا حماس پر غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

حماس نے کہا ہے کہ وہ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں ہتھیار ڈالے گی (فوٹو: روئٹرز)
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے الزام لگایا ہے کہ حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کو وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ حماس کو اکتوبر کے معاہدے پر مکمل عمل کرنا ہوگا، جس میں یہ شامل ہے کہ اس گروہ کو غزہ میں اقتدار سے ہٹایا جائے اور علاقے کو غیرعسکری اور انتہا پسندی سے پاک کیا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسرائیل اس کے مطابق جواب دے گا۔‘
اسرائیلی فوج نے پہلے کہا تھا کہ جنوبی رفح کے علاقے میں ایک فوجی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد پھٹا جس سے ایک افسر معمولی زخمی ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ستمبر میں جاری کردہ 20 نکاتی منصوبے میں ابتدائی جنگ بندی کے بعد وسیع تر امن کی طرف اقدامات شامل ہیں۔ اس منصوبے میں آخرکار حماس کو ہتھیار ڈالنے اور غزہ میں حکومتی کردار نہ رکھنے، اور اسرائیل کو علاقے سے نکلنے کا کہا گیا ہے، جو دو سال کی جنگ کے بعد کھنڈر بن چکا ہے۔
فریقین نے اس منصوبے کے تمام نکات پر مکمل اتفاق نہیں کیا۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں ہتھیار ڈالے گی

ترکیہ اور حماس کی غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت

روئٹرز کے مطابق ترک وزیرِ خارجہ حکان فیدان نے بدھ کے روز انقرہ میں حماس کے سیاسی بیورو کے حکام سے ملاقات کی تاکہ غزہ میں جنگ بندی اور معاہدے کو دوسرے مرحلے تک لے جانے پر بات کی جا سکے۔
ذرائع نے کہا کہ حماس کے حکام نے فیدان کو بتایا کہ انہوں نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں، لیکن اسرائیل کا غزہ کو مسلسل نشانہ بنانا معاہدے کو اگلے مرحلے تک جانے سے روکنے کے لیے ہے۔
حماس کے ارکان نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں آنے والی انسانی امداد ناکافی ہے اور ادویات، رہائش کے لیے سامان، اور ایندھن جیسی اشیاء کی ضرورت ہے۔

 

شیئر: