Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے: صومالی صدر

جمعے کو اسرائیل کے اعلان کے بعد صومالی حکومت اور افریقی یونین نے شدید ردعمل ظاہر کیا (فوٹو: اے ایف پی)
صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے اتوار کو ہنگامی پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا ’دنیا اور خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔‘
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعے کو اعلان کیا کہ ان کا ملک صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ محمود نے کہا کہ یہ اقدام ’صومالیہ جمہوریہ کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور عوامی اتحاد پر کھلی جارحیت کے مترادف ہے۔‘
صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا اور کئی دہائیوں سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ خود ساختہ جمہوریہ خلیج عدن پر سٹریٹجک مقام رکھتی ہے اور اس کی اپنی کرنسی، پاسپورٹ اور فوج ہے۔ تاہم یکطرفہ آزادی کے اعلان کے بعد سے یہ سفارتی طور پر تنہا رہا ہے۔
جمعے کو اسرائیل کے اعلان کے بعد صومالی حکومت اور افریقی یونین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
موغادیشو نے اپنی خودمختاری پر ’جان بوجھ کر حملہ‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی، جبکہ مصر، ترکیہ، چھ رکنی خلیجی تعاون کونسل اور سعودی عرب میں قائم اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی۔

 

شیئر: