کیا پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے ٹیم تیار کر لی؟ عامر خاکوانی کا تجزیہ
کیا پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے ٹیم تیار کر لی؟ عامر خاکوانی کا تجزیہ
پیر 29 دسمبر 2025 8:57
پاکستان کے موجودہ وائٹ بال کوچ کی یہ حکمت عملی نظر آ رہی ہے کہ ٹی20 ٹیم میں زیادہ سے زیادہ آل راؤنڈرز کھلائے جائیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ٹی 20 ورلڈ کپ میں صرف چند ہفتے رہ گئے ہیں، فروری میں یہ میگا ایونٹ کھیلا جائے گا۔ اب اسے خوش قسمتی ہی سمجھیں کہ انڈین ٹیم چیمپئنز ٹرافی کھیلنے پاکستان نہیں آئی اور یوں وہ معاہدہ ہوا جس کی رو سے پاکستان بھی ورلڈ کپ میچز کھیلنے انڈیا نہیں جا رہا۔
پاکستان اپنے گروپ میچز اور سیمی فائنل، فائنل کھیلنے کی صورت میں وہ ناک آؤٹ میچز بھی سری لنکا ہی میں کھیلے گا۔ اس کا ایک ایڈوانٹیج تو ہو سکتا ہے کہ انڈیا کی ٹرننگ سپن پچوں اور انڈیا کراؤڈ، میڈیا کے دباؤ سے پاکستانی ٹیم آزاد رہ کر کھیلے گی۔ سری لنکن پچز انڈین پچوں کی نسبت کچھ مختلف اور شاید نسبتاً آسان ہو سکتی ہیں۔
اسی ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے سری لنکا میں ایک ٹی20 سیریز یقینی بنائی جو جنوری کے پہلے ہفتے میں کھیلی جائے گی۔ اگرچہ شاید تکنیکی وجوہات کی بنا پر یہ میچز ان شہروں میں نہیں کھیلے جائیں گے جہاں پاکستان کے ورلڈ کپ میچز ہونے ہیں، تاہم عمومی سری لنکن موسم اور کنڈیشنز سے کچھ نہ کچھ مطابقت تو ہو سکے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف اس ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے لیے سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پر سوشل میڈیا میں خاصی بحث چل رہی ہے۔ راشد لطیف جیسے سابق کرکٹرز بھی اس پر بات کر رہے ہیں جبکہ محمد عامر وغیرہ نے بھی اعتراضات کیے ہیں۔
15 رکنی ٹیم میں ایک آدھ نئے کھلاڑی کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاہم زیادہ تر وہی کھلاڑی ہیں جو پچھلے سال ڈیڑھ سے ٹیم میں شامل ہیں اور ورلڈ کپ پلان کا حصہ رہے ہیں۔ کپتان سلمان علی آغا ہی ہیں، نائب کپتان کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایک اہم چیز یہ نظر آئی کہ کئی کھلاڑی جو آج کل آسٹریلیا میں بگ بیش لیگ کھیل رہے ہیں، انہیں شامل نہیں کیا گیا۔ ان میں بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، حسن علی، محمد رضوان شامل ہیں۔ البتہ بگ بیش لیگ کھیلنے والے سپن آل راؤنڈر شاداب خان کو سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ بعض لوگوں کا الزام ہے کہ چونکہ وائٹ بال کے کوچ مائیک ہیسن پی ایس ایل میں شاداب خان کی ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے کوچ ہیں، اس لیے شاداب مائیک ہیسن کے فیورٹ ہیں اور انہوں نے ہی شاداب کو سری لنکا کے خلاف سیریز میں موقع دلایا ہے۔
قومی ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی وہی ہیں جنہوں نے سری لنکا، زمبابوے کے خلاف سہ ملکی سیریز کھیلی تھی، جیسے صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان، فخر زمان، سلمان آغا، عثمان خان (وکٹ کیپر)، محمد نواز، فہیم اشرف، محمد ابرار، نسیم شاہ، وسیم جونیئر، سلمان مرزا وغیرہ۔ مسٹری سپنر عثمان طارق اور پاور ہٹر عبدالصمد کو بھی ٹیم میں شامل رکھا گیا جبکہ شاہینز کی جانب سے اچھی کارکردگی دکھانے والے خواجہ نافع (متبادل وکٹ کیپر) کو موقع دیا گیا ہے۔
پاکستان کے موجودہ وائٹ بال کوچ کی یہ حکمت عملی نظر آ رہی ہے کہ ٹی20 ٹیم میں زیادہ سے زیادہ آل راؤنڈرز کھلائے جائیں۔ موجودہ ٹیم میں بھی شاداب خان، محمد نواز، فہیم اشرف، صائم ایوب وغیرہ آل راؤنڈرز ہیں، وسیم جونیئر کو بھی کسی حد تک اس کیٹیگری میں ڈالا جا سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کسے باہر بیٹھنا پڑے گا؟
بظاہر ٹیم کمبینیشن یوں لگ رہا ہے: اوپنرز صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، جبکہ مڈل آرڈر میں فخر زمان، سلمان آغا، عثمان خان، شاداب خان/عبدالصمد ہو سکتے ہیں۔ نمبر سات سے گیارہ تک یعنی لوئر آرڈر میں محمد نواز/فہیم اشرف، سلمان مرزا، محمد ابرار، نسیم شاہ/وسیم جونیئر، عثمان طارق ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کسی میچ میں عثمان خان کو باہر بٹھا کر اس کی جگہ خواجہ نافع کو بطور وکٹ کیپر/پاور ہٹر موقع دیا جائے۔ صرف تین میچز ہیں تو زیادہ تجربات کی گنجائش بھی نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا بگ بیش کھیلنے والے سینیئر کھلاڑی، خاص کر بابر اعظم ورلڈ کپ پلان کا حصہ ہے یا نہیں؟ (فوٹو: اے ایف پی)
بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کا ابتدائی خاکہ سامنے آ گیا ہے۔ ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان کی آسٹریلیا سے بھی ایک ٹی20 سیریز ہوگی، مگر اس میں تجربات کرنے کے بجائے ورلڈ کپ ٹیم ہی کھلانے کا امکان ہے تاکہ کھلاڑی بے یقینی سے باہر آ جائیں اور ٹیم ایک ردھم کے ساتھ ورلڈ کپ کے لیے تیار ہو جائے۔
اب یہاں پر تین اہم سوالات ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا بگ بیش کھیلنے والے سینیئر کھلاڑی، خاص کر بابر اعظم اور حارث رؤف، ورلڈ کپ پلان کا حصہ نہیں ہیں یا انہیں بگ بیش لیگ کے میچز کھیلنے کے لیے شامل نہیں کیا گیا کہ وہ وہاں کھیل کر اچھی فارم میں آ جائیں۔ شاہین شاہ آفریدی کا نام اس لیے نہیں لیا کہ اپنے آخری میچ میں شاہین زخمی ہو کر گراؤنڈ سے باہر چلے گئے تھے اور یہ خدشہ ہے کہ وہ کچھ دنوں کے لیے نہیں کھیل پائیں گے۔
ابھی حتمی بات نہیں کی جا سکتی، مگر یہ خطرہ بھی ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے ابتدائی میچز کھیل پائیں گے یا نہیں؟