بی ایل اے کے لیے خودکش دھماکے پر تیار بلوچ بچی کو بچا لیا گیا: وزیر داخلہ سندھ
بی ایل اے کے لیے خودکش دھماکے پر تیار بلوچ بچی کو بچا لیا گیا: وزیر داخلہ سندھ
پیر 29 دسمبر 2025 12:33
پریس کانفرنس میں بچی اور اس کی والدہ کے بیان بھی چلائے گئے (فوٹو: سکرین شاٹ)
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ ایک کم سن بچی کو بی ایل اے کے لیے خودکش بمبار بننے سے بچا لیا گیا ہے۔
پیر کو کراچی میں پولیس افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ بچی کو واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کر کے ریاست مخالف مواد بھیجا گیا اور خودکش بمبار بننے پر تیار کیا گیا۔
بچی کی والدہ کی گفتگو شناخت پوشیدہ رکھتے ہوئے میڈیا کو جاری کی گئی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرہ بچی کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جا رہی ہے اور ریاست ان کے تحفظ اور مستقبل کی ضامن ہے۔
اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی سندھ نے بتایا کہ 25 دسمبر کی شب ایک حساس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کم عمر بچی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔
ان کے مطابق ’بچی والدین سے چھپ کر موبائل استعمال کرتی تھی اور دہشت گردوں کے ہینڈلرز نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ پاکستان مخالف اور غیرملکی مواد کے ذریعے بچی کی ذہن سازی کی گئی۔‘
ان کے بقول ’ایک ہینڈلر نے ہمدردی اور مدد کے بہانے رابطہ کیا اور بعدازاں خودکش حملے کے لیے اکسانا شروع کیا۔‘
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بچی کو کراچی بھیجا گیا اور وہ گھر والوں سے جھوٹ بول کر روانہ ہوئی تھی۔
ان کے مطابق ’پولیس ناکوں کی وجہ سے ہینڈلر مطلوبہ مقام تک نہیں پہنچ سکا اور سازش بے نقاب ہو گئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ڈی بریفنگ کے دوران بچی نے نیٹ ورک اور طریقہ واردات کے حوالے سے تفصیلات فراہم کر دیں۔ ’کم عمری کے باعث بچی کے خاندان والوں کو طلب کیا گیا جس کے بعد والدہ اور بہن بھائی کراچی پہنچے۔‘
متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ’میں نے گھر سے نکلنے کے لیے بہانہ بنایا اور ناکے پر پوچھ گچھ کے دوران شدید گھبرا گئی‘ (فوٹو: سکرین شاٹ)
ان کا کہنا تھا کہ بچی کو مکمل تحفظ اور عزت کے ساتھ خاندان کے حوالے کیا گیا جبکہ تفتیش کا عمل جاری ہے۔ متاثرہ بچی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سامنے آیا اور پھر وہی بار بار دکھایا جانے لگا۔
’رابطہ بڑھا، لنکس اور تقاریر بھیجی گئیں اور آہستہ آہستہ وہ سب کچھ سچ لگنے لگا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب رابطہ کرنے والے کو علم ہوا کہ میرے والد نہیں ہیں تو ہمدردی کے بہانے مزید پھنسانے کی کوشش کی۔‘
واٹس ایپ گروپ میں بی ایل اے کی کارروائیوں کو بہادری بنا کر پیش کیا جاتا رہا جو کہ دھوکہ تھا۔
بچی کے بقول ’میری پڑھائی متاثر ہونے لگی مگر ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے گھر سے نکلنے کے لیے بہانہ بنایا اور ناکے پر پوچھ گچھ کے دوران شدید گھبرا گئی۔‘
بچی کی والدہ کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد میں بیان دینے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی اور بچی جال میں نہ پھنسے۔
وزیر داخلہ سندھ نے والدین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نفرت اور دہشت گرد مواد کے خلاف سخت چیکس لگائیں، اکاؤنٹس بند کریں اور الگورتھمز درست کریں۔