’برد الازیرق‘ سعودی عرب کے کئی علاقوں میں سردی کی نئی لہر متوقع
ماہرین کا کہنا ہے سرد موسم سے بچاو کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں (فوٹو:العربیہ)
سعودی عرب میں موسمیات کے قومی مرکز نے کہا ہے کہ ’مملکت کے شمالی اور وسطی علاقوں میں بدھ اور جمعرات کو سردی کی نئی لہر متوقع ہے۔
سردی کی لہر سے الجوف، حدود الشمالیہ، حائل، قصیم اور ریاض ریجن کے علاقے متاثر ہوں گے۔ بعض مقامات پر پارہ تین ڈگری سینٹی گریڈ سے منفی ایک تک پہنچے گا۔
العربیہ کے مطابق موسم سرما کے آغاز کے ساتھ مملکت کے مختلف شہروں میں قطبی ہواوں کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہو گئے۔
سال کے اختتام اور نئے برس کے آغاز پر کرہ ارض سردی کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔
ماہر موسمیات ڈاکٹر خالد الزعاق کا کہنا ہے’ زمانہ قدیم سے اس موسم کو ’برد الازیرق‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘
’سرد موسم سے بچاو کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ سرکاری اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی موسمی تبدیلیوں سے آگاہ رہنا ضروری ہے۔‘
ڈاکٹر خالد الزعاق نے ایکس اکاونٹ پر موسمی تبدیلی کے حوالے سے بتایا ’موسم سرما کی مدت 40 دن کی ہے جسے تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں ’الاکیل، القب اور الشولہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد فروری میں سردی کا موسم 13 دن کا ہوتا ہے جس میں ہوائیں بھی تیز چلتی ہیں۔‘

گریگورین کیلنڈرسال کے آخری تین دن اور نئے برس کے پہلے تین دن موسم سرما کے سرد ترین دور میں شمار کیے جاتے ہیں۔
ان دنوں میں سورج کے جنوبی سمت سے شمالی جانب غروب ہونے کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوجاتاہے۔
انہوں نے بتایا’ ان دنوں میں راتیں طویل اور دن چھوٹے ہوتے ہیں جبکہ سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے جسے ’برد الازیرق‘ کہا جاتا ہے یعنی شدید سردی کی لہر جس کا اثر انسانی جسم میں براہ راست محسوس ہوتا ہے۔‘
