سعودی ریف پروگرام، بارانی زراعت میں 1100 فیصد تک اضافہ
سعودی ریف آٹھ مخصوص شعبوں میں تکنیکی مدد بھی فراہم کرتا ہے ( فائل فوٹو)
سعودی ریف نے اعلان کیا ہے کہ بارش سے نشوونما حاصل کرنے والی فصلوں کے شعبے کو قدرتی پانی ملنے کی وجہ سے بہت زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق فصلوں کا شعبہ ان آٹھ شعبوں میں سے ایک ہے جسے سعودی ریف کی طرف سے تعاون اور امداد فراہم کی جاتی ہے۔
اس سیکٹر میں غیر معمولی وسعت اور اس کی ترقی میں 1100 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ مملکت میں ریف پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں کی کل تعداد 13 ہزار 300 تک پہنچ گئی ہے۔
اس پروگرام کے ترجمان ماجد البریکانی کا کہنا ہے’ بارش کے پانی سے زراعت میں وسعت، سعودی ریف کے کارناموں میں سب سے نمایاں ہے۔‘
انھوں نے اس شعبے کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ’ اس سے پیداواری صلاحیت بڑھی ہے، غذائی تحفظ میں بہتری آئی ہے جبکہ خود انحصاری میں اضافہ ہوا ہے۔‘

’اس سے ان علاقوں میں پائیدار کاشتکاری کی بنیاد پڑی ہے جہاں پانی کی قلت ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں کا آمدن کی سطح اور زندگی کی کوالٹی بہتر ہوئی ہے۔ یہ سب ’سعودی وژن 2030‘ میں طے کردہ ترجیحات کے عین مطابق ہو رہا ہے۔‘
ماجد البریکانی نے اس پروگرام کے بنیادی مقاصد کے خدوخال پر بات کی جن میں زرعی پیداوار کو مزید بڑھانا وہ مقصد ہے جس پر پروگرام کا کُلی انحصار ہے۔

اس کے علاوہ مختلف فصلوں میں غذا سے متعلق ہرطرح کی پابندیوں سے نجات، چھوٹے کسانوں کی خوشحالی میں اضافہ اور ان کے لیے کام کے مواقع بڑھانا تاکہ سماجی طور پر وہ باہم جُڑ جائیں اور مملکت کے تمام دیہی علاقوں میں ماحول اور قدرتی وسائل کی حفاظت کرنا، سعودی ریف کے پروگرام میں شامل ہے۔
سعودی ریف آٹھ مخصوص شعبوں کو نہ صرف تعاون بلکہ تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے جن میں شہد کی پیداوار، پھلوں کی کاشت، کافی اور گلاب کی پیداوار کر ترقی دینا، بارش کے پانی سے فصلوں میں بڑھوتی، لائیو سٹاک، ماہی گیری اور ویلیو ایڈیڈ زرعی پروڈکٹس شامل ہیں۔
