Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بحرین میں ایران کے پاسداران کے لیے جاسوسی کرنے والے چار شہری گرفتار

گرفتار ملزمان نے معلومات خفیہ سافٹ ویئر کے ذریعے پاسدارنِ انقلاب کو بھیجیں (فوٹو: وزارتِ داخلہ)
بحرین نے اپنے چار شہریوں کو حراست میں لیا ہے جن پر شبہ ہے کہ وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔
عرب نیوز کے مطابق بحرین کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف کریمنل انویسٹیگیشن اینڈ فارنزک سائنس نے گرفتار افراد کی شناخت مرتضیٰ حسین اول، احمد عیسیٰ الہائکی، سارہ عبدالنبی مرہون اور الیاس سلمان مرزا کے ناموں سے کی ہے۔
پانچواں مشتبہ شخص علی محمد حسن الشیخ بیرونِ ملک موجود ہے اور تاحال گرفتار نہیں ہو سکا۔
تحقیقات کے مطابق مرتضیٰ حسین اور اس کے ساتھیوں نے پاسدارانِ انقلاب کے کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اعلیٰ معیار کے آلات کے ذریعے بحرین کے اہم مقامات کی تصاویر بنائیں اور ان کے درست مقامات (لوکیشن) کا ریکارڈ تیار کیا۔ بعد ازاں یہ معلومات خفیہ سافٹ ویئر کے ذریعے پاسدارنِ انقلاب کو بھیجی جاتی رہیں۔
یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران خلیجی خطے میں اپنے حملوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ حد، عراد، قلالی اور سماہیج کے رہائشی گھروں کے اندر رہیں اور آگ سے اُٹھنے والے دھوئیں سے بچنے کے لیے کھڑکیاں بند رکھیں۔
ایرانی حملوں کے نتیجے میں لگنے والی آگ کی وجہ سے یہ احتیاطی ہدایات جاری کی گئیں۔ محرق گورنریٹ میں واقع ایک تنصیب کے ایندھن کے ٹینک بھی ایرانی حملوں کا نشانہ بنے۔
ادھر عمان کی صلالہ بندرگاہ پر بھی ایرانی ڈرون حملوں کے بعد ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں میں آگ لگ گئی جسے بجھانے کی کوششیں جاری رہیں۔
دو ایرانی ڈرون دبئی کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب گرے جس سے چار افراد زخمی ہو گئے، تاہم پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔
ایک اور ڈرون حملے کے بعد دبئی کریک ہاربر میں واقع ایک لگژری رہائشی عمارت میں آگ لگ گئی جو جمعرات کی صبح تک بجھا دی گئی۔
ایران نے تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا اور بدھ کے روز اس ایئرپورٹ پر حملہ کیا جسے حکام دنیا کا مصروف ترین بین الاقوامی ایئرپورٹ قرار دیتے ہیں۔
اسی دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر حملے بھی مسلسل جاری رہے۔

 

شیئر: