Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کی جانب سے حملوں میں شدت، سعودی وزیر دفاع عالمی حمایت کے لیے متحرک

سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان کی ترکیہ، رومانیہ اور جنوبی کوریا کے ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے، جس میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دوسری طرف خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ایران نے امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں پڑوسی ممالک پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
بدھ کو ایک مختصر وقفے کے بعد سعودی عرب پر ڈرون حملوں کا سلسلہ رات نو دوبارہ شروع ہوا جس میں مشرقی صوبے اور شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا تاہم سعودی وزیر دفاع نے تصدیق کی ہے کہ تمام ڈرونز کو روک لیا گیا۔
وزارت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ الخرج میں پرنس سلطان ایئربیس کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کو بھی روکا گیا اور مار گرایا گیا۔
سعودی وزیر دفاع نے ترکیہ کے وزیر دفاع یاسر گلر سے کال میں مشترکہ حفاظتی اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا اور ایرانی جارحیت کی مذمت کی۔
اسی طرح ان کی رومانیہ کے وزیر دفاع راڈو میروٹا کے ساتھ گفتگو میں علاقائی و عالمی استحکام کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جنوبی کوریا کے وزیر دفاع اہن گیوبیک کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں بھی ایرانی اقدامات کی مذمت کی گئی اور خطے کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
اس بحرانی صورت حال کا سلسلہ اٹھائیس فروری کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ اس کے بعد سے تہران خلیجی ریاستوں اور پورے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے اثاثوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کے ذرائع کی ترسیل روکنے کا بھی اعلان کیا، جو کہ عالمی طور پر ہونے والی تیل اور گیس کی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم مقام ہے اور اس اقدام کے بعد ان چیزوں کی قیمت میں کافی اضافہ ہو رہا ہے۔

شیئر: