مشرقی ریجن کے گورنر شہزادہ سعود بن نایف بن عبدالعزیز نے پیر کو دمام شہر کے سب سے بڑے سیاحتی منصوبے ’گلوبل سٹی‘ کا افتتاح کر دیا ہے۔ گلوبل سٹی علاقے کی معیشت کو فروغ دے گا اور اسے متنوع بنائے گا۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق اس موقع پر ریجنل سیکریٹری انجینیئر فہد الجبیر کے علاوہ عمائدین شہر، تھائی حکام، منصوبے کے سرمایہ کار بھی موجود تھے۔
مزید پڑھیں
-
’فلائنگ اوور سعودی‘: سیاحتی مقامات کے فضائی سفر کا سنیمائی تجربہNode ID: 898808
گلوبل سٹی منصوبے کے حوالے سے گورنر مشرقی ریجن کا کہنا تھا کہ ’اس سے علاقے میں معاشی استحکام اور سیاحت کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ روزگار اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ یہ منصوبہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بھی راغب کرے گا۔‘
ریجنل سیکریٹری انجینیئر الجبیر نے منصوبے کے حوالے سے بتایا کہ ’گلوبل سٹی پروجیکٹ ثقافتی اور تفریحی منصوبے پر مشتمل ہے جس میں عالمی ثقافتیں یکجا ہوں گی۔ مختلف ممالک کے پویلین میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جائے گا۔‘

گلوبل سٹی منصوبے کا مجموعی رقبہ 650 ہزار مربع میٹر ہے جس کا پہلا مرحلہ دو لاکھ 50 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے۔
پہلے مرحلے میں 15 انٹرنیشنل پویلین مکمل ہو چکے ہیں جو خلیجی ممالک، ایشیا، یورپ اور افریقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
منصوبے میں 16 ممالک شریک ہوں گے جو اپنے اپنے ممالک کی مصنوعات و ثقافت کو اجاگر کریں گے۔

تفریحی منصوبے کے تحت دو لاکھ مربع میٹر پر مرکزی مصنوعی جھیل ہو گی جس میں سیاحتی و تفریحی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔ یہ جھیل ایک فلوٹنگ ریستوران ہے جو سیاحت اور تفریجی ایونٹس کے لیے ایک مرکز کےطور پر کام کرے گا۔
اس کے ساتھ اوپن تھیٹر ہوگا جس میں سات سے 10 ہزار افراد کی گنجائش ہو گی۔ علاوہ ازیں 15 ہزار مربع میٹر پر پھیلا ہوا جدید ترین پلے لینڈ بھی تعمیر کیا جائے گا جس مں ریستوران، کیفے، بازار اور واکنگ ٹریک ہوں گے۔

منصوبے میں بیک وقت تین ہزار سے زائد گاڑیوں کی پارکنگ کا بندوبست کیا جائے گا جبکہ مختلف مقامات پر تین مرکزی دروازے ہوں گے۔
تفریحی منصوبہ ’گلوبل سٹی‘ تین مراحل پر مشتمل ہے جس میں پہلا مرحلہ تفریح اور نمائش کے لیے مخصوص ہے جہاں 11 ریستوران ہیں جو عرب اور ایشین کوزین پیش کریں گے جبکہ ’چینی محلہ‘ اور انڈین گلی کے عنوان سے بھی مقامات بنائے جائیں گے۔

دوسرے مرحلے میں بھی انواع و اقسام کے ریستوران کے علاوہ واٹر سٹی اور تفریحی مقامات بنائے جائیں گے۔
جبکہ تیسرا مرحلہ انٹرنیشنل ایگزیبیشنز اور تفریحی پروگراموں کے حوالے سے ہوگا۔ توقع ہے منصوبے کی تکمیل سے یومیہ وزیٹرز کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔











