Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تجزیہ: کیا ایران کی پراکسیز وہاں کی حکومت کو بچا سکتی ہیں؟

جنگ شروع ہونے کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے کیے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
مشرق وسطیٰ کے فضاؤں سے ایک بار پھر میزائل اور ڈرون گزر رہے ہیں، آبنائے ہرمز پر ٹریفک رک چکی ہے اور یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا قتل خطے کو ایسی جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس کے نتائج شاید بہت دور تک جائیں۔
عرب نیوز میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے آگے نکل گئی ہے جبکہ مزید اضافے سے بھی خبردار کیا جا رہا ہے یعنی کہ اگر تیل کی سپلائی میں خلل طویل ہوتا ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا میں پہنچ سکتے ہیں۔
اس وقت تک ایران کی جانب سے اسرائیل اور کچھ مماک میں امریکہ کے مراکز پر جوابی حملوں سے فائدے سے زیادہ خطرات کی گھنٹیاں بجی ہیں۔
عرب ممالک نے حملوں کی مذمت کی ہے اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بھی آیا ہے لیکن ایران ابھی تک ان حکومتوں کو اسرائیل کی حمایت یا پھر تحمل کے مطالبے میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور نہیں کر سکا ہے۔
اس کے بجائے ان کے لیڈرز نے حملوں کو خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سفارت کاری کے راستے بھی کھلے رکھے ہیں۔
اس نازک لمحے میں ایران کی ’مزاحمت کے محور‘ سمجھے جانے والے گروپوں کی جانب سے ظاہر کیے گئے ردعمل نے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جن میں لبنان کی حزب اللہ جو  کہ عراقی ملیشیاؤں کا ایک دستہ ہے، کے علاوہ یمن کی حوثی تنظیم بھی شامل ہے۔
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ان کی جانب سے جو ردعمل دیا گیا وہ طے شدہ ہے۔
لبنانی نژاد برطانوی صحافی محمد چیبارو نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’یہ اپنے طور پر نہیں ہوا، مجھے یقین ہے کہ اس کے لیے ایران کی جانب سے ہدایت کی گئی اور اس کی اچھی طرح تیاری بھی کی جا چکی تھی کیونکہ وہ طویل عرصے سے ایسے منظرنامے کی توقع کر رہا تھا۔‘

ان کے بقول ’میں سمجھتا ہوں کہ ہر کوئی اس پہیلی نما صورت حال میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے کہ ایران نے برسوں تک جو سٹریٹیجک فوائد اٹھائے اور تیاری کی، اس کو کیسے استعمال کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ میلشیا فورسز وسیع پیمانے پر سٹریٹیجک گیمز کے لیے موزوں ہوتی ہیں، تاہم اس بارے میں ایران نے ابھی تک اپنے ارادے زیادہ وضاحت سے ظاہر نہیں کیے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے اسے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
دو مارچ کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی حصے پر میزائل داغے اور ڈرونز کے ذریعے فائرنگ کی اور 2024 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے ایک بہت بڑی کارروائی تھی۔
اسرائیل کی جانب سے چند گھنٹوں میں ہی اس کا جواب دیا گیا اور لبنان کے شہر بیروت میں ان حصوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں گروپ کے مراکز ہیں۔
لبنان کی حکومت جس کو توقع تھی کہ حزب اللہ تحمل کا مظاہرہ کرے گی، کو اس کے بعد حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی لگانا پڑی۔
بیروت اس سے آگے بڑھتا بھی دکھائی دیا اور حزب اللہ کے 12 ارکان کی گرفتاری کی بھی اطلاعات ہیں۔
ان اقدامات سے عوامی سطح پر پائے جانے والی اس تشویش کی بھی عکاسی ہوتی ہے کیونکہ ملک میں معاشی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے اور جنوبی حصے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے حزب اللہ اپنے ردعمل سے یہ بھی دکھانا چاہتی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کے بعد وہ خاموش نہیں بیٹھے گی تاہم 2006 کی طرح کی بمباری سے گریز کیا جائے گا۔

ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کے ردعمل نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنایا ہے (فوٹو: روئٹرز)

کنگز کالج لندن سے وابستہ رابرٹ جیسٹ پینفولڈ نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’میرے خیال میں حزب اللہ کا اسرائیل پر حملوں کا فیصلہ دراصل اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکہ کی حمایت یافتہ لبنانی فوج کی جانب سے حزب اللہ کو غیرمسلح کیے جانے کی رفتار سے مایوس ہوتے ہوئے ایک نیا محاذ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔
’وہ صرف اس موقع کا انتظار کر رہے تھے اور حزب اللہ کے حملے نے اس کو عذر فراہم کیا۔‘
حزب اللہ کی جانب سے حملوں کو خامنہ ای کے قتل کے بدلے اور وسیع تر ’مزاحمت‘ کی مہم کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔
اسی طرح عرق اور یمن کے محاذوں پر ایرانی حمایت یافتہ گروپ اب تک محتاط انداز میں بڑھتے دیکھے جا رہے ہیں۔
اسلامک ریزسٹنس عراق (آئی آر آئی) تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد امریکی ٹھکانوں اور ڈرونز اور راکٹوں سے حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
اسی طرح ایک اور دھڑے سرایا اولیا الدام نے اربیل ایئرپورٹ، بغداد ایئرپورٹ کے قریب واقع کیمپ اور دوسرے امریکی ٹھکانوں پر حملوں کے دعوے کیے ہیں، جن میں سے کچھ غیر تصدیق شدہ ہیں۔

آئی آر آئی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد امریکی ٹھکانوں اور ڈرونز اور راکٹوں سے حملے کیے (فوٹو: روئٹرز)

یکم اور تین مارچ کے درمیان آئی آر آئی کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں پڑوسی ملکوں میں امریکی اڈوں پر روزانہ کی بنیاد پر 20 سے زائد کارروائیوں کا ذکر گیا جن میں ڈرون اور میزائل استعمال کیے گئے۔
تاہم یہ بھی معلوم ہوا کہ ان سے کافی نقصان ہوا اور کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
عراق میں بھی لبنان کی طرح یہ مخمصہ موجود ہے کہ آیا حکومتیں ان گروہوں کو بات چیت اور دباؤ کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لا سکتی ہیں۔
چیبارو کا کہنا تھا کہ ’حزب اللہ جو کچھ کر رہی ہے اس کے لیے اس نے اجازت نہیں لی۔‘
سب سے حیران کن موقف یمن کی حوثی تنظیم کی جانب سے سامنے آیا۔
2024 اور 25 کے دوران فوجی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد اس کو امریکہ اور برطانیہ کے جوابی حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایک کمزور معاہدے کے نتیجے میں اپنی کارروائیاں کم کیں۔
پینفولڈ نے بات چیت میں مزید کہا کہ ’اس سے ان کی خود مختاری ظاہر ہوتی ہے۔ حوثی ہمیشہ سے نسبتاً آزادی رہی ہے جبکہ حزب اللہ ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام کی پیداوار ہے۔‘
ماضی میں ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے حوثیوں کو یہ سمجھ آئی ہے کہ وہ براہ راست سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تصادم سے گریز کرتے ہیں۔
’یہ حوثی اس امر کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ اس چیز کی طرف نہیں دیکھیں گے کہ ایران کس قدر بڑی چھلانگ لگاتا ہے بلکہ اس کے ذہن میں طویل مدتی مفادات ہیں اور ان کی بقا بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔‘

عراق میں بھی لبنان کی طرح یہ مخمصہ موجود ہے کہ آیا حکومتیں ان گروہوں کو بات چیت اور دباؤ کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لا سکتی ہیں (فوٹو: روئٹرز)

تجزیہ کار ایران کے موجودہ نققطہ نظر کو ’سٹریٹیجک صبر‘ کے طور پر بھی بیان کرتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل اور عرب ریاستوں کی مشترکہ طاقت کے مقابلے میں ایک مکمل جنگ سے گریز کرتے ہوئے اور اخراجات کم رکھنے کے لیے پراکسیز جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
حزب اللہ کی جانب سے نظر آنے والے محدود مقاصد پر مبنی حملے اور عراقی ملیشیاز کی وہ کارروائیاں جن میں محدود کارروائی کی گئی، سے یہ صورت حال اس منطق کے مطابق دکھائی دیتی ہے۔
یہ صورت حال ایک ’کاغذی شیر‘ کا تاثر دکھاتی ہے۔ ایک ایسی حکومت جو دھاڑتی اونچی آواز میں ہے مگر نقصان صرف اپنے شراکت داروں اور پراکسیز کے ذریعے پہنچاتی ہے اور اس حد سے آگے سے نہیں بڑھتی جس کے جواب میں زبردست جوابی کارروائی ہو سکتی ہو یا عرب ممالک براہ راست جنگ میں اتر سکتے ہوں۔

شیئر: