الباحہ میں ہر طرف بادام کے سفید پھولوں کا مسحور کن نظارہ
الباحہ ریجن میں ہر برس بادام کے درختوں پر کِھلنے والے پہلے پہلے پھول ایک ایسے حسین منظر کی تصویر بن جاتے ہیں جو دیکھنے والوں کو مسحور کر کے رکھ دیتا ہے۔
دلکشی کا یہ سلسلہ صرف ایک ہی جگہ پر دکھائی نہیں دیتا بلکہ پہاڑوں اور ڈھلانوں سے وادیوں میں اترتے ہوئے، ہر جانب اپنا جادو جگاتا جاتا ہے جیسے سردیاں، بہار کی لیے راستہ بنا رہی ہوں اور چار سُو موتی ہی موتی بکھرے پڑے ہوں۔
الباحہ ریجن کے کئی گورنریٹس میں جہاں تک انسانی یاد کی رسائی ہے، باداموں کی کاشت کو نسل در نسل ایک ثقافتی اور سماجی ورثے سے منسوب کیا جاتا رہا ہے اور کسانوں نے پھر سے باداموں کی کاشت کا آغاز کر دیا ہے۔
وزارتِ ماحولیات، آب اور زراعت کی الباحہ برانچ کے ڈائریکٹر انجینیئر فہد الزھرانی کہتے ہیں کہ بادام کی فصل انتہائی امید افزا سمجھی جاتی ہے جس کی معاشی قدر بھی کافی زیادہ ہے۔
بادام کے درخت اُن فصلوں میں شمار ہوتے ہیں جو الباحہ ریجن کے پہاڑی ماحول اور اونچے نیچے مقامات پر جو زرعی طور پر بہت الباحہ کا خاص پہلو ہے، عمدہ نتائج پیدا کرتے ہیں۔ الزاھرانی کے مطابق بادام کی فصل اس ریجن کی آب و ہوا اور علاقے کے وجہ مسابقی فائدہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
باداموں کی کاشت الباحہ گورنریٹ میں کافی مقامات پر کی جاتی ہے جس سے یہ فصل زرعی بنیادوں کو متنوع بناتی ہے اور کاشتکاری میں پائیداری کی ایک اہم وجہ بنتی ہے۔

انجینیئر فہد الزھرانی نے یہ بھی بتایا کہ الباحہ میں باداموں کی کاشت 67 ہیکٹرز پر کی جاتی ہے اور اس کی پیداوار 241 ٹن سبز پھلوں تک پہنچ جاتی ہے جبکہ بادام کی گریوں کی پیداوار 107 ٹن تک ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ وزارت کی بھرپور کوشش ہے کہ کاشتکاروں کو براہِ راست امداد فراہم کی جائے، جن میں سعودی ریف کا پروگرام بھی شامل ہے۔ اس طرح فصلوں میں تقابلی برتری کے باعث نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ زرعی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔
سعودی پریس ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ایک کسان نے باداموں کی کاشت کے بارے میں کہا کہ ’یہ محنت طلب کام ہے جس میں احتیاط اور صفائی لازم ہیں۔کاشتکاری کے آغاز اور درختوں پر پھل آنے میں بھی کافی طویل وقت لگتا ہے۔‘

کسان کے مطابق بادام کا درخت مختلف طرح کی آب و ہوا کو برداشت کر لیتا ہے اور اس کے لیے بہت زیادہ آبپاشی درکار نہیں ہوتی۔
بادام کے درخت پر سفید پھولوں کی بہار، فروری کے مہینے میں شروع ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی نرم پھل لگ جاتے ہیں جو رفتہ رفتہ سخت ہوتے جاتے ہیں۔ جولائی تک بادام مکمل طور پر سخت ہو چکا ہوتا ہے اور اس کی گریاں بھی ٹھوس شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ اس مرحلے کو ’لباب‘ کہتے ہیں۔
کسان نے کہا کہ بہت سے لوگ پکنے سے پہلے ہی بادام کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسانوں کے لیے بادام کی کاشت کے معاشی فوائد کافی زیادہ ہیں کیونکہ ہر درخت ایک سیزن میں چار سے پانچ کلو گرام بادام پیدا کرتا ہے۔

الباحہ کو زرعی نخلستان بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں پودوں اور درختوں کی کافی زیادہ ورائٹی پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سردی کا موسم ہو یا گرمی کا، الباحہ کی زمین زرخیز ہے، اس میں پانی کی کثرت ہے اور یہاں کی آب و ہوا معتدل ہے۔
تاہم آب و ہوا کتنی ہے نامساعد کیوں نہ ہو بادام کا درخت خاص طور پر ایسی مشکلات سے بہتر طور پر نبرد آزما ہونے کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ اسے زیادہ پانی کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور جوں جوں اس کی پیداوار کا سیزن موسمِ سرما کے اختتام پر قریب آتا ہے، یہ قدرتی طور پر بھی پھلنا پھولنا شروع کر دیتا ہے۔ اس زمانے میں الباحہ کے پہاڑی علاقوں میں بارش بھی بہت ہوتی ہے۔