Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پی آئی اے کا 29 مارچ سے لندن کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

برطانیہ نے رواں برس جولائی میں پاکستانی ایئرلائنز پرعائد پابندیاں ختم کر دی تھیں: فوٹو پی آئی اے
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے تقریباً چھ برس کے وقفے کے بعد لندن کے لیے ہفتہ وار چار پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 
منگل کو پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق آئندہ برس 29 مارچ سے اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتہ وار چار پروازیں شروع کی جائیں گی اور یہ پروازیں ہیتھرو ایئر پورٹ کے جدید ترین ٹرمینل فور سے آپریٹ ہوں گی۔ 
اس سے پہلے برطانوی پابندیاں ختم ہونے کے بعد 25 اکتوبر کو پانچ برس بعد پی آئی اے کی پہلی پرواز اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ 
اس وقت پی آئی اے مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں آپریٹ کر رہا یے۔
برطانیہ نے رواں برس جولائی میں پاکستانی ایئرلائنز پر عائد پابندیاں ختم کر دی تھیں جو 2020 میں کراچی میں پی آئی اے کے ایئربس اے 320 طیارے کے حادثے کے بعد لگائی گئی تھیں۔
حادثے کے بعد پائلٹ لائسنسنگ میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے جس کے نتیجے میں برطانیہ اور یورپی یونین دونوں نے پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
اس فیصلے نے نہ صرف قومی ایئرلائن کو اربوں روپے کے نقصان سے دوچار کیا بلکہ ہزاروں پاکستانیوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جو ان روٹس پر سفر کے لیے براہ راست پروازوں کے منتظر رہتے تھے۔ اس پابندی کے باعث پی آئی اے تقریباً پانچ برس یورپ اور برطانیہ کے لیے براہ راست پروازیں نہیں چلا سکی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق برطانیہ کے روٹس پر واپسی پی آئی اے کے لیے ایک بڑا موقع ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کئی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں مسئلہ بیڑے میں شامل طیاروں کی کمی ہے۔ پی آئی اے کے پاس اس وقت محدود تعداد میں قابل استعمال طیارے ہیں جبکہ جدید ایوی ایشن انڈسٹری میں مقابلے کے لیے جدید طیارے اور معیاری سروس کی فراہمی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے ہی عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص خرید لیے تھے۔ اس کے بعد وزیرِاعظم پاکستان کے مشیر برائے نجکاری نے بتایا تھا کہ پی آئی  اگلے سال اپریل سے نئے مالک کے زیرانتظام سے اپنا آپریشن شروع کرے گی۔ 

شیئر: