پی آئی اے اپریل سے نئے مالکان کے زیرانتظام چلائی جائے گی: مشیر نجکاری
پی آئی اے اپریل سے نئے مالکان کے زیرانتظام چلائی جائے گی: مشیر نجکاری
بدھ 24 دسمبر 2025 16:35
اب یہ عمل نجکاری کمیشن کے بورڈ اور کابینہ کی حتمی منظوری کی طرف بڑھ رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)
وزیرِاعظم پاکستان کے مشیر برائے نجکاری نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) توقع ہے کہ اگلے سال اپریل سے نئے مالک کے زیرانتظام چلائی جائے گی اور قومی ایئرلائن کی نجکاری کے معاہدے کے تحت نئی سرمایہ کاری حاصل کرے گی۔
عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں ایک کنسورشیم نے منگل کو براہِ راست ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی نیلامی میں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے سب سے بڑی بولی لگائی، جو حکومت کی طویل عرصے سے التوا کا شکار نجکاری میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے (482.14 ملین ڈالر) کی پیشکش کی جو حکومت کی مقررہ کم از کم قیمت 100 ارب روپے سے زیادہ ہے، اور یہ گذشتہ سال کی ناکام فروخت کی کوشش کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی ہے۔
وزیرِاعظم کے نجکاری کے مشیر محمد علی نے روئٹرز کو ایک آن لائن انٹرویو میں بتایا کہ ریاست کو توقع ہے کہ اپریل تک نیا مالک ایئرلائن چلا رہا ہوگا بشرطیکہ منظوری مل جائے۔
اب یہ عمل نجکاری کمیشن کے بورڈ اور کابینہ کی حتمی منظوری کی طرف بڑھ رہا ہے، جو چند دنوں میں متوقع ہے، معاہدے پر دستخط دو ہفتوں میں اور مالی تکمیل 90 دن کے اندر ریگولیٹری اور قانونی شرائط پوری کرنے کے بعد ہوگی۔
محمد علی نے کہا کہ حکومت کو تقریباً 10 ارب روپے نقد ملیں گے اور وہ 25 فیصد حصص رکھے گی جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ایئرلائن میں نئی سرمایہ کاری آئے نہ کہ صرف ملکیت منتقل ہو۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم ایسی صورتحال نہیں چاہتے تھے کہ حکومت ایئرلائن بیچ دے، پیسے لے لے اور کمپنی پھر بھی تباہ ہو جائے۔‘
فاتح کنسورشیم میں فرٹیلائزر بنانے والی کمپنی فاطمہ، نجی سکول نیٹ ورک سٹی سکولز اور رئیل اسٹیٹ فرم لیک سٹی ہولڈنگز لمیٹڈ بھی شامل ہیں۔
محمد علی نے کہا کہ خریدار کو لین دین کے بعد 12 ماہ تک تمام ملازمین کو برقرار رکھنا ہوگا (فوٹو: روئٹرز)
محمد علی نے کہا کہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی، جو فوج کے زیرانتظام ایک گروپ ہے، نے بولی نہیں لگائی لیکن وہ اب بھی فاتح کنسورشیم میں شراکت دار کے طور پر شامل ہو سکتی ہے، کیونکہ خریدار دو مزید شراکت دار شامل کر سکتا ہے جن میں کنسورشیم کا شریک یا کوئی غیرملکی ایئرلائن شامل ہو سکتی ہے اگر وہ معیار پر پورا اتریں۔
انہوں نے کہا کہ شراکت داروں کو شامل کرنے سے مالی طاقت بڑھے گی اور عالمی ایوی ایشن کا تجربہ بھی آ سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کا دباؤ
انہوں نے کہا کہ حفاظتی اقدامات، جن میں جمع شدہ رقم اور دستخط پر اضافی ادائیگی شامل ہے، حکومت کو یہ اجازت دیں گے کہ اگر معاہدہ مکمل نہ ہو تو دوسرے سب سے بڑے بولی دہندہ کی طرف بڑھ سکے۔
ملازمین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خریدار کو لین دین کے بعد 12 ماہ تک تمام ملازمین کو برقرار رکھنا ہوگا، اور معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کا عملہ حالیہ برسوں میں پہلے ہی کم ہو چکا ہے۔
محمد علی نے کہا کہ نجکاری آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی اصلاحات کی ساکھ کا ایک اہم امتحان ہے (فوٹو: اردو نیوز)
یہ فروخت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے قریب سے دیکھی جا رہی ہے، جو پاکستان پر ریاستی اداروں کے نقصانات کو روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
محمد علی نے کہا کہ نجکاری آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی اصلاحات کی ساکھ کا ایک اہم امتحان ہے اور نقصان دہ ریاستی اداروں کو فروخت کرنے میں ناکامی عوامی مالیات پر دوبارہ دباؤ کا خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کو مکمل کرنا اصلاحات اور نجکاری میں پیش رفت کا اشارہ دے گا اور حکومت پی آئی اے کے بعد مستقبل کے لین دین کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔