پاکستان نے ٹرمپ خاندان کی قریبی کرپٹو کمپنی کے ساتھ کیا معاہدہ کیا؟
پاکستان نے ٹرمپ خاندان کی قریبی کرپٹو کمپنی کے ساتھ کیا معاہدہ کیا؟
بدھ 14 جنوری 2026 17:02
پاکستان نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ایک کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کا مرکزی کرپٹو کاروبار ہے، تاکہ سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ورلڈ لبرٹی کے یو ایس ڈی ون (USD1 (سٹیبل کوائن کے استعمال کا جائزہ لیا جا سکے۔
پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)، جو کہ ورلڈ لبرٹی سے منسلک ادارہ ہے، بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر ڈائیلاگ اور تکنیکی فہم کو ممکن بنائے گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ اعلان ورلڈ لبرٹی اور کسی ملک کے درمیان اعلان کردہ ابتدائی شراکت داریوں میں سے ایک ہے۔ ورلڈ لبرٹی کرپٹو پر مبنی مالیاتی پلیٹ فارم ہے جسے ستمبر 2024 میں لانچ کیا گیا تھا۔
یہ پیش رفت پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری کے تناظر میں بھی سامنے آئی ہے۔
معاہدے سے واقف ایک ذریعے کے مطابق اس معاہدے کے تحت، ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز پاکستان کے مرکزی بینک کے ساتھ مل کر اپنے USD1 سٹیبل کوائن کو ایک باقاعدہ ڈیجیٹل ادائیگی کے ڈھانچے میں ضم کرنے پر کام کرے گی، جس سے یہ ٹوکن پاکستان کے اپنے ڈیجیٹل کرنسی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ کام کر سکے گا۔
ورلڈ لبرٹی کے سی ای او کا پاکستان کا دورہ
یہ مفاہمتی یادداشت ورلڈ لبرٹی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو زیک وِٹکوف کے پاکستان کے دورے کے دوران سامنے آئی، جو امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف کے صاحبزادے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری تصاویر میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وِٹکوف کو معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔
وِٹکوف ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز کے بھی سی ای او ہیں۔ ڈیلاویئر میں رجسٹرڈ یہ کمپنی، جولائی 2025 کی سٹیبل کوائن کے ذخائر سے متعلق دستاویزات کے مطابق، ورلڈ لبرٹی کے ساتھ مل کر USD1 سٹیبل کوائن برانڈ کی شریک مالک ہے۔
ورلڈ لبرٹی نے اس دورے اور شراکت داری پر تبصرے کی روئٹرز کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا، ’ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ معتبر عالمی اداروں کے ساتھ رابطے میں رہ کر، نئے مالیاتی ماڈلز کو سمجھ کر، اور اس بات کو یقینی بنا کر کہ جدت، جہاں بھی اپنائی جائے، وہ ضابطوں، استحکام اور قومی مفاد کے مطابق ہو، ہم وقت سے آگے رہیں۔‘
پاکستان نقد رقم کے استعمال میں کمی اور ترسیلاتِ زر جیسے سرحد پار ادائیگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل کرنسی منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔ (فوٹو: پرائم منسٹر آفس)
سٹیبل کوائنز، جو عموماً ڈالر کے ساتھ منسلک ڈیجیٹل ٹوکن ہوتے ہیں، حالیہ برسوں میں تیزی سے مقبول ہوئے اور ان کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔
ٹرمپ کے دور میں، امریکہ نے وفاقی قوانین متعارف کرائے ہیں جنہیں وسیع پیمانے پر اس شعبے کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، اور دنیا بھر کے ممالک ادائیگیوں اور مالیاتی نظام میں سٹیبل کوائنز کے ممکنہ کردار کا جائزہ لے رہے ہیں۔
روئٹرز نے اکتوبر میں رپورٹ کیا تھا کہ ورلڈ لبرٹی نے گزشتہ سال کے پہلے نصف میں ٹرمپ خاندان کے کاروبار، جسے ٹرمپ آرگنائزیشن کہا جاتا ہے، کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا، جس میں غیر ملکی اداروں سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہے۔ گزشتہ مئی میں، ریاست کے زیر کنٹرول ابوظہبی کی سرمایہ کاری کمپنی ایم جی ایکس نے ورلڈ لبرٹی سٹیبل کوائن کا استعمال کرتے ہوئے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائنانس میں 2 ارب ڈالر کے حصص خریدے۔
پاکستان نقد رقم کے استعمال میں کمی اور ترسیلاتِ زر جیسے سرحد پار ادائیگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل کرنسی منصوبوں پر غور کر رہا ہے، جو زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
پاکستانی ریگولیٹر کے بیان کے مطابق، پاکستان کو سالانہ 36 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر موصول ہوتی ہیں، جبکہ ملک میں اندازاً 4 کروڑ کرپٹو صارفین اور سالانہ 300 ارب ڈالر تک کے کرپٹو تجارتی حجم کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔
پاکستان کے مرکزی بینک کے گورنر نے جولائی میں کہا تھا کہ وہ ڈیجیٹل کرنسی کے ایک پائلٹ منصوبے کے آغاز کی تیاری کر رہے ہیں اور ورچوئل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔