انڈیا: جب رکشہ ڈرائیور خود کو کاٹنے والے سانپ کو زندہ جیکٹ میں ڈال کر علاج کے لیے ہسپتال پہنچا
انڈیا: جب رکشہ ڈرائیور خود کو کاٹنے والے سانپ کو زندہ جیکٹ میں ڈال کر علاج کے لیے ہسپتال پہنچا
بدھ 14 جنوری 2026 17:20
یوسف تہامی، دہلی
مقامی میڈیا کے مطابق وہ شخص ایک آٹو رکشہ ڈرائیور ہے۔ (فوٹو: سکرین گریب)
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے شہر متھرا میں ایک شخص کی ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ یہ شکایت کرتا نظر آتا ہے کہ اسے سانپ نے کاٹ لیا ہے اور وہ اس کے علاج کے لیے ہسپتال پہنچا ہے لیکن اس کا علاج نہیں کیا جا رہا ہے۔
جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ اسے کس سانپ نے کاٹا ہے تو وہ اپنی جیکٹ کھولتا ہے اور اس میں سے ایک زندہ سانپ کو نکالتا ہے جو بظاہر کوبرا نظر آتا ہے۔ سانپ کو دیکھتے ہی کچھ لوگ پیچھے ہٹنے لگتے ہیں لیکن وہ شخص اس سانپ کو پھر اپنی جیکٹ میں رکھ لیتا ہے۔
اس ویڈیو پر جہاں سرکاری ہسپتال میں علاج کی کمی پر بحث کی جا رہی ہے وہیں کچھ لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا سانپ کا اس طرح رکھنا بہادری ہے یا یہ غیرذمہ داری ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق وہ شخص ایک آٹو رکشہ ڈرائیور ہے۔ جبکہ ہسپتال والوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کا اس وقت تک علاج نہیں کر سکتے جب تک کہ وہ اپنی جیکٹ سے سانپ کو الگ نہیں کرتا۔
اس کے احتجاج کی وجہ سے ہسپتال کے سامنے بھیڑ لگنے اور سڑک پر جام لگنے کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔
ویڈیو میں وہ شخص کہتا ہے کہ ’آدھے گھنٹے پہلے اسے سانپ نے کاٹا اور وہ ورندا ون سے ہسپتال پہنچا لیکن ہسپتال نے علاج سے انکار کر دیا تو اس نے جام لگوا دیا۔‘
مقامی میڈیا کے مطابق چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نیرج اگروال نے بتایا کہ ’متھرا کے 39 سالہ مقامی شخص دیپک کو سانپ نے کاٹ لیا تھا اور وہ اینٹی وینم انجیکشن کے لیے ہسپتال آیا تھا۔‘
’مریض کو کہا گیا کہ وہ سانپ کو باہر چھوڑ دے کیونکہ اس سے دوسرے مریضوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘
بعد میں پولیس کو بلایا گیا جس نے سانپ کو دیپک سے حاصل کر لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس اطمینان کے ساتھ دیپک سانپ کو اپنی جیکٹ میں رکھے ہوئے تھا اس پر یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ سانپ دیپک کا تھا۔
انڈیا میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات دنیا میں سب سے زیادہ سامنے آتے ہیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سانپ تقریباً 1.5 فٹ لمبا کوبرا تھا جو انتہائی زہریلا ہوتا ہے۔ سانپ کے کاٹنے کے بعد ڈرائیور مبینہ طور پر سانپ کو پکڑنے میں کامیاب ہو گیا، اسے اپنی جیکٹ کے اندر محفوظ کر لیا، اور علاج کے لیے قریبی ہسپتال لے گیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ شخص ہسپتال میں ہجوم کے درمیان تقریباً 30 منٹ تک انتظار کرتا رہا۔ جب ایک رپورٹر نے ان سے اس واقعے کے بارے میں سوال کیا تو اس نے سکون سے زندہ سانپ کو باہر نکالا، جس سے مریضوں اور ہسپتال کے عملے میں خوف وہراس پھیل گیا۔ طبی عملے کی جانب سے ان کے جسم پر کاٹنے کے نشانات کے علاج کے لیے اینٹی وینم کے استعمال کے بعد صورت حال کو قابو میں لایا گیا۔
یہ واقعہ دو روز قبل پیر کا ہے جبکہ منگل کو ڈاکٹروں نے اس شخص کی حالت مستحکم ہونے کی تصدیق کی ہے۔
انڈیا میں ہسپتال عام طور پر ملک کے ’بگ فور‘ زہریلے سانپوں کے خلاف پولی ویلنٹ اینٹی وینم کا استعمال کرتے ہیں۔ (فائل فوٹو: ڈاؤن ٹو ارتھ)
انڈیا میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات دنیا میں سب سے زیادہ سامنے آتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر برس 50 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان افراد سانپ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق بہت سے دیہی علاقوں میں، متاثرین بعض اوقات ڈاکٹروں کو زہر کی شناخت اور مناسب علاج کا تعین کرنے میں مدد کرنے کے لیے کاٹنے والے سانپ کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لے آتے ہیں۔ انڈیا میں ہسپتال عام طور پر ملک کے ’بگ فور‘ زہریلے سانپوں کے خلاف پولی ویلنٹ اینٹی وینم کا استعمال کرتے ہیں۔