Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کا یمن میں تشدد دوبارہ بڑھنے پر اظہار تشویش، سعودی سلامتی کے لیے عزم کی توثیق

پاکستان نے یمن میں تشدد کی لہر  دوبارہ اٹھنے پر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ ملک میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مملکت کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کی توثیق کرتا ہے۔‘
’پاکستان کسی بھی یمنی فریق کی جانب سے اٹھائے گئے ایسے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتا ہے جو صورتحال کو مزید کشیدہ کریں، امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں اور یمن ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنیں۔‘
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے یمن کے مسئلے کے حل کی اپنی مضبوط حمایت برقرار رکھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر ایک جامع اور دیرپا تصفیے کی جانب پیش قدمی کریں گی، تاکہ علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان یمن میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
دریں اثنا وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر  نواف بن سعید احمد المالکی نے بدھ کی شام وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق  ملاقات کے دوران وزیراعظم پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے اپنے مضبوط عزم اور عزم کا اعادہ کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا جس کی بدولت دونوں ممالک ایک دوسرے مزید قریب آئے۔
بیان کے مطابق ملاقات میں حالیہ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم پاکستان نے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

شیئر: