خلیجی ممالک کی سعودی سکیورٹی اور یمنی حکومت کو حمایت کی پیشکش
یمنی حکومت کے ہامی فوجی اتحاد نے منگل کو المکلا کی بندرگاہ پر ہتھیاروں اور گاڑیوں کی کھیپ لے جانے والے دو بحری جہازوں پر ’محدود‘ حملہ کیا تھا (فوٹو: عرب نیوز)
عرب اور خلیجی ممالک نے امارات کی جانب سے فوج نکالے جانے کے بعد یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو حمایت کی پیشکش کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ اقدام یمنی حکومت کی حمایت کرنے والے فوجی اتحاد کے جنوبی علیحدگی پسند فورسز کے لیے جانے والی ہتھیاروں اور گاڑیوں کی کھیپ پر فضائی حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔
دو بحری جہازوں پر مشتمل یہ کھیپ المکلہ کی بندرگاہ پر پہنچی تھی جو کہ متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ سے روانہ ہوئے تھے۔
منگل کو متذکرہ حملے کے تھوری دیر بعد یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ راشد العلیمی نے یو اے ای سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 24 گھنٹے کے اندر اپنی فوجوں کو یمن سے نکالے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند جو جنوبی عبوری کونسل کے تحت کام کرتے ہیں اور ان کو متحدہ عرب کی حمایت حاصل ہے، کا حال ہی میں حضر موت اور المھرہ کی گورنریٹس پر قبضہ مملکت کی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
قطر کے حکام کا کہنا ہے کہ پیش رفت کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دوحہ نے یمن کی قانونی حکومت کی مکمل حمایت کی ہے۔
بیان میں ملک کے اتحاد، تحفظ اور یمنی عوام کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک کا دفاع قطر کی سکیورٹی کا لازمی حصہ ہے جس سے جی سی سی ممالک کے اتحاد، گہرے برادرانہ تعلقات اور مشترکہ منزل کی عکاسی ہوتی ہے۔
وزارت نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ان بیانات کو بھی سراہا ہے جن سے ’خطے کے مفادات کو ترجیح دینے کا عزم‘ ظاہر ہوتا ہے۔‘
اسی طرح کویت نے بھی یمن کی حکومت کو اپنی ’غیرمتزلزل حمایت‘ کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کی سلامتی اس کی اپنی سلامتی کی بنیاد ہے۔
کویتی وزارت خارجہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے اختیار کیے گئے ’ذمہ دارانہ‘ رویے کی تعریف بھی کی ہے۔
اسی طرح جی سی سی کے موجودہ سربراہ ملک بحرین کے حکام کا کہناہے کہ اسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت پر اعتماد ہے اور وہ متحدہ خلیج کے فریم ورک کے اندر نقطہ نظر کے کسی بھی قسم کے اختلاف کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بحرین کی وزارت خارجہ نے ان علاقائی اور بین الاقوامی اقدامات کی حمایت کی واضح پیشکش کی ہے جو یمن میں ایک جامع اور دیرپا سیاسی حل کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
علاوہ ازیں مصر کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ اس کو مکمل اعتماد ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یمن میں ہونے والی پیش رفت کو حکمت کے ساتھ ہینڈل کر لیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یمن میں ایک جامع سیاسی تصفیے تک پہچنے تک کوششیں جاری رہیں گی۔‘
