ایک ایسے خطے میں جو پہلے ہی عدم استحکام کے دہانے پر کھڑا ہے، یمن میں زمینی صورتحال کی تیزی سے بدلتی صورتِ حال خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ جہاں بین الاقوامی مبصرین اب بھی سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی پر انحصار کیے ہوئے ہیں، وہیں یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ ملک ایک خطرناک علاقائی تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اس تشویش کے بیچ یمنی حکومت اور یمن کے اتحاد برائے بحالیِ لیجیٹمیسی کا یہ غیر متزلزل عزم ہے کہ ملکی وحدت کو برقرار رکھا جائے اور ایسے انتہا پسند محفوظ ٹھکانوں کے قیام کو روکا جائے جو نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے اور اس سے باہر عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق جنوبی یمن میں ہونے والی پیش رفت کو الگ سے دیکھنا سادہ لوحی ہوگی۔ سوڈان کے ساتھ مماثلت، جہاں ریپڈ سپورٹ فورسز نے آل فاشر جیسے مقامات پر تباہی اور قتلِ عام کیا، اور حال ہی اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کے واقعات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مثالیں اس بات کا انتباہ ہے کہ اگر جنوبی عبوری کونسل کو طاقت اور غیر ملکی اتحادوں کے ذریعے یکطرفہ طور پر نئی حقیقت مسلط کرنے کی اجازت دی گئی تو یمن میں کیا کچھ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
-

-

-

خلیجی ممالک کی سعودی سکیورٹی اور یمنی حکومت کو حمایت کی پیشکش
Node ID: 898927
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے نہایت محتاط مگر مضبوط لہجہ اختیار کیا ہے۔ ایک جانب اس نے اپنی قومی سلامتی کے حوالے سے واضح سرخ لکیر کھینچی ہے، تو دوسری جانب جنوبی مسئلے کی منصفانہ اور تاریخی جڑوں کو تسلیم بھی کیا ہے۔ تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی حل کا راستہ یمن کے متنوع فریقین کے باہمی اتفاقِ رائے سے نکلنا چاہیے، جو کہ مذاکرات کی میز پر ہو نہ کہ میدانِ جنگ میں۔ عسکری حل صرف اتحاد اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی ان برسوں کی محنت کو ضائع کرے گا جن کا مقصد امن و سکون کو فروغ دینا تھا، حتیٰ کہ پائیدار امن کے لیے حوثیوں سے بات چیت بھی کی گئی۔
یمنی حکومت کے اندرونی معاملات سے واقف ایک تجزیہ کار نے عرب نیوز کو بتایا کہ اگرچہ جنوبی باشندوں کو اپنے تاریخی اور جغرافیائی دلائل کی بنیاد پر آزادی کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن یہ حق ان دیگر یمنیوں کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے جو ایک متحد قوم پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے حق میں دلائل رکھتے ہیں۔ ان کی آواز بھی سنی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’تاریخی طور پر یمن ایک متحد اور وفاقی اکائی رہا ہے، چاہے وہ قاسمی اور حمیری سلطنتیں ہوں یا رسولی ریاست۔ یمن کی تقسیم مقامی نہیں تھی بلکہ نوآبادیاتی طاقتوں نے مسلط کی خاص طور پر جنوب میں برطانیہ نے، جہاں امارات اور سلاطین کا نظام تھا، جبکہ شمال میں عثمانیوں کا تسلط تھا۔

حتیٰ کہ ضلع الضالع بھی کبھی آئمہ کے زیرِ اقتدار رہا۔ یہ مصنوعی تقسیم 1990 تک برقرار رہی، جب یمن دوبارہ اپنی فطری وحدت میں لوٹ آیا۔‘
کسی بھی گروہ کو یہ اجازت دینا کہ وہ مسلح طاقت اور غیر ملکی سرپرستی کے ذریعے سرحدیں ازسرِنو کھینچے، تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ یہی حالات گذشتہ جنگ کا سبب بنے تھے، جب بیرونی حمایت یافتہ حوثیوں نے اقوامِ متحدہ سے تسلیم شدہ جائز حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
تجزیہ کار نے ایک سنجیدہ سوال اٹھایا کہ ’اگر ایس ٹی سیکو خود ارادیت کے نام پر جزیرہ نما عرب میں ایک نئی ریاست قائم کرنے کا حق دے دیا جائے تو پھر ایران نواز حوثیوں کا کیا؟ ان کے پاس خاصی عوامی حمایت ہے اور وہ تاریخی دارالحکومت پر قابض ہیں۔ کیا انہیں بھی طاقت کے زور پر شرائط مسلط کرنے کی اجازت دی جائے گی؟‘
انہوں نے مزید پوچھا کہ ’کیا عالمی برادری خصوصاً امریکہ شمالی یمن میں ایک حوثی، ایرانی ریاست کے قیام کو قبول کرے گی؟ کیا واشنگٹن سوڈان کی تقسیم کی ایک اور مثال کو برداشت کرے گا، وہ بھی اس سانحے کے حل سے پہلے؟ اور کیا دنیا ایک طویل جنگ کے نتائج اٹھانے کے لیے تیار ہے جو عالمی بحری تجارت، توانائی کی ترسیل اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال دے، خصوصاً باب المندب کی آبی گزرگاہ اور بحیرہ احمر و بحیرہ عرب کی سٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر؟‘

حالیہ تاریخ ایک تلخ فیصلہ سناتی ہے: وسیع داخلی اتفاقِ رائے اور واضح بین الاقوامی قانونی فریم ورک کے بغیر ہونے والی علیحدگیاں شاذ و نادر ہی مستحکم ریاستوں کو جنم دیتی ہیں۔ اس کے بجائے وہ طویل افراتفری، ادارہ جاتی انہدام اور مسلح گروہوں و غیر ملکی مداخلت کے دروازے کھول دیتی ہیں۔ خودمختاری ایک سراب بن جاتی ہے اور اس کی جگہ ایسا خلا لے لیتا ہے جو مسلسل تنازعات کو جنم دیتا ہے۔
یمن میں اس سے بھی بہت زیادہ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ یہ ملک دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک پر واقع ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور یورپ جانے والی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ جنوبی یمن میں کسی بھی قسم کا سکیورٹی خلا اس شہ رگ کو بار بار کے جھٹکوں سے دوچار کر دے گا۔
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے ملکی قومی سلامتی کے حوالے سے واضح سرخ لکیر کھینچتے ہوئے، جنوبی مسئلے کی منصفانہ اور تاریخی بنیادوں کو تسلیم کیا ہے۔










