’کپڑے اچھالے گئے، توڑ پھوڑ اور مار پیٹ‘، نیو ایئر نائٹ پر پارک ویو سٹی میں کیا ہوا؟
’کپڑے اچھالے گئے، توڑ پھوڑ اور مار پیٹ‘، نیو ایئر نائٹ پر پارک ویو سٹی میں کیا ہوا؟
جمعرات 1 جنوری 2026 13:45
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
گھڑی پر رات کے 12 بجتے ہی نئے سال کی تقریبات کا آغاز ہوتا ہے۔ کنسرٹ جاری ہے، لوگ آسمان کی جانب نظریں جمائے آتش بازی کے منتظر ہیں، لیکن اسی دوران اچانک شور بلند ہوتا ہے۔
کپڑے، جیکٹس اور چادریں ہوا میں اڑتی دکھائی دیتی ہیں، کچھ افراد باڑ پھلانگتے نظر آتے ہیں جبکہ بعض ہاتھوں میں پتھر اٹھائے تنصیبات کو نقصان پہنچاتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ مناظر گزشتہ رات نئے سال کی تقریب کے دوران اسلام آباد کے علاقے پارک ویو سٹی کے ہیں، جہاں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر جشن اور خوشی کے بجائے بدنظمی اور بدامنی کی تصویر پیش کر رہی ہیں۔
پارک ویو سٹی اسلام آباد میں ہر سال کی طرح اس بار بھی نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، تاہم تقریب کے دوران شدید بدمزگی دیکھنے میں آئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سوسائٹی کی سکیورٹی اہلکار دور کھڑے ہیں جبکہ چند نوجوان ان پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تقریب ایک فیملی ایونٹ کے طور پر منعقد کی گئی تھی، تاہم اطلاعات کے مطابق اس موقع پر داخلے اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی علیحدہ یا مؤثر انتظامات موجود نہیں تھے۔
اس ہی دوران سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پارک ویو سٹی میں مختلف اقسام کے ٹکٹس فروخت کیے گئے تھے، جن میں نارمل اور وی آئی پی ٹکٹس شامل تھے۔ تاہم جب لوگ تقریب کے مقام پر پہنچے تو انہیں کسی بھی جگہ سے واضح منظر دکھائی نہیں دیا۔ بہت سے افراد کو ایسی جگہوں پر روک دیا گیا جہاں سے سٹیج یا تقریب کچھ بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ جب عوام نے ٹکٹ کی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو سیکیورٹی گارڈز نے راستے بند کر دیے۔ بدانتظامی کے باعث لوگوں میں شدید غصہ پھیل گیا اور حالات خراب ہوتے چلے گئے۔
اس پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر لوگوں سے مہنگے ٹکٹس لیے جاتے ہیں تو انہیں مناسب انتظامات بھی فراہم کیے جانے چاہئیں، نہ کہ انہیں ایسی جگہ روک دیا جائے جہاں کچھ بھی نظر نہ آئے۔
ان الزامات کے جواب میں تاحال پارک ویو سٹی کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی بیان یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔
عموماً ایسے مواقع پر صرف نوجوان لڑکوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی، تاہم اس تقریب میں اس پالیسی پر بھی عمل درآمد ہوتا دکھائی نہیں دیا۔ وائرل ویڈیو میں ایک شخص کو یہ بھی ذکر کرتے سنا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ زبردستی اندر گھس آئے ہیں انہوں نے ٹکٹ بھی نہیں خریدا، سکیورٹی ان کو باہر دھکیلتی ہے تو یہ دوسری طرف سے واپس داخل ہو جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس بدنظمی کے دوران خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ ایک وائرل ویڈیو میں خاتون رپورٹر کو رپورٹنگ کے دوران دیکھا جا سکتا ہے، جن کے چہرے پر اچانک ایک کپڑا آ کر لگتا ہے، جس کے بعد وہ واضح طور پر پریشانی کا شکار نظر آتی ہیں۔
یہ اس ویڈیو سے لیا گیا سکرین شاٹ ہے جس میں خاتون رپورٹننگ کر رہی ہیں اور پس منظر میں ہوا میں اچھلتے کپڑے دیکھے جا سکتے ہیں۔
پارک ویو سٹی کا یہ علاقہ اپنے ڈانسنگ فاؤنٹینز کے باعث بھی خاصا مشہور ہے، جہاں پانی کے تالاب کو محفوظ بنانے کے لیے لوہے کے جنگلے نصب کیے گئے ہیں۔ وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض نوجوان ان جنگلوں کو اکھاڑ رہے ہیں جبکہ بینچز اٹھا کر تالاب میں پھینک دیے گئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے بعد صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک جانب توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب پارک ویو سٹی کی انتظامیہ پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر اتنی بڑی تقریب کو سنبھالنے کی صلاحیت موجود نہیں تو اس نوعیت کے ایونٹس کا انعقاد ہی نہیں کیا جانا چاہیے۔