نئے سال پر آن لائن فراڈ کے نئے ہتھکنڈے، صارفین کیسے بچیں؟
نئے سال پر آن لائن فراڈ کے نئے ہتھکنڈے، صارفین کیسے بچیں؟
پیر 29 دسمبر 2025 12:18
زین علی -اردو نیوز، کراچی
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’کوئی صارف اگر سائبر فراڈ کا شکار ہو جائے تو وہ فوری طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رابطہ کرے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی سائبر جرائم کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ملک بھر میں سائبر الرٹ جاری کر دیا ہے، جس میں شہریوں کو جعلی لنکس، بوگس انعامی سکیموں اور آن لائن فراڈ سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایجنسی کے مطابق ہر سال خوشیوں کے مواقع پر سائبر جرائم پیشہ عناصر متحرک ہو جاتے ہیں اور عام صارفین کو نشانہ بنانے کے لیے نت نئے حربے استعمال کیے جاتے ہیں، جن سے بروقت آگاہی نہ ہونے کی صورت میں مالی نقصان کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نئے سال کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ پر مبارک باد کے نام سے مشکوک لنکس اور جعلی تحائف سے متعلق پیغامات تیزی سے گردش کر رہے ہیں۔
ان پیغامات میں صارفین کو مختلف کمپنیوں، موبائل نیٹ ورکس یا آن لائن سٹورز کی جانب سے انعامات، موبائل فونز، نقد رقم یا گفٹ واؤچرز جیتنے کا جھانسہ دیا جاتا ہے، جب کہ حقیقت میں یہ لنکس سائبر فراڈ کا حصہ ہوتے ہیں۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ شہری کسی بھی نامعلوم یا مشکوک لنک پر ہرگز کلک نہ کریں، چاہے وہ پیغام کسی جاننے والے کے اکاؤنٹ سے ہی کیوں نہ موصول ہوا ہو۔
ایجنسی کے مطابق ہیکرز اکثر پہلے کسی ایک اکاؤنٹ کو ہیک کر کے اس کے ذریعے اس کے دوستوں اور رشتہ داروں کو پیغامات بھیجتے ہیں، جس سے لوگ ان کے جھانسے میں آ جاتے ہیں اور لنک پر کلک کر دیتے ہیں۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ایک سینئر افسر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ادارے کی جانب سے صارفین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنا واٹس ایپ ویری فکیشن کوڈ، ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی)، بینک تفصیلات، شناختی کارڈ نمبر یا دیگر ذاتی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔‘
ایجنسی کے مطابق ہر سال خوشیوں کے مواقع پر سائبر جرائم پیشہ عناصر متحرک ہو جاتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ برسوں میں متعدد ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں صارفین نے لاعلمی میں اپنا ویری فیکیشن کوڈ شیئر کیا، جس کے نتیجے میں ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک ہو گئے اور بعد ازاں انہی اکاؤنٹس کے ذریعے مزید فراڈ کیا گیا۔‘
واضح رہے کہ کچھ عرصے سے نئے سال، عید، رمضان، بلیک فرائیڈے اور دیگر تہواروں کے موقع پر جعلی لاٹری سکیمز، انعامی قرعہ اندازی، فری انٹرنیٹ پیکیجز اور جعلی ای کامرس آفرز کے ذریعے عوام کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
بعض کیسز میں صارفین کو ایک جعلی ویب سائٹ پر لے جایا جاتا ہے، جو بالکل کسی معروف کمپنی یا بینک کی ویب سائٹ جیسی دکھائی دیتی ہے، جہاں ان سے لاگ اِن تفصیلات یا کارڈ نمبر طلب کیے جاتے ہیں۔ جیسے ہی صارف یہ معلومات درج کرتا ہے، اس کا ڈیٹا ہیکرز کے ہاتھ لگ جاتا ہے۔
سائبر سکیورٹی امور کے ماہر ڈاکٹر نعمان سید نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’گزشتہ چند برسوں میں فِشنگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں صارفین کو ای میل، ایس ایم ایس یا واٹس ایپ کے ذریعے جعلی پیغامات بھیج کر ان سے حساس معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اسی طرح سمِشنگ یعنی ایس ایم ایس کے ذریعے فراڈ اور وشِنگ یعنی فون کال کے ذریعے دھوکہ دہی کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ان طریقوں میں خود کو بینک، سرکاری ادارے یا معروف کمپنی کا نمائندہ ظاہر کر کے صارفین کو خوف یا لالچ میں مبتلا کیا جاتا ہے۔‘
ماہرین نے والدین کو خصوصی طور پر ہدایت کی ہے کہ ’وہ بچوں اور نوجوانوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں، کیونکہ نوجوان طبقہ زیادہ تر سوشل میڈیا، آن لائن گیمز اور فری آفرز کی طرف جلد متوجہ ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق سائبر کرائمز میں ملوث عناصر اکثر کم عمر صارفین کو نشانہ بنا کر ان سے ذاتی معلومات یا تصاویر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے بعد انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر نعمان سید کا کہنا ہے کہ ’شہری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پرائیویسی سیٹنگز مضبوط رکھیں، دو مرحلہ جاتی تصدیق کو فعال کریں اور مشکوک پیغامات یا اکاؤنٹس کی فوری رپورٹ کریں۔علاوہ ازیں کسی بھی غیر متوقع انعام یا آفر کی صورت میں متعلقہ کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ یا ہیلپ لائن سے تصدیق کریں۔‘
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’کوئی صارف اگر سائبر فراڈ کا شکار ہو جائے تو وہ فوری طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رابطہ کرے اور تمام شواہد محفوظ رکھے، تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔‘
ایجنسی کے مطابق شہریوں کی بروقت شکایات سے نہ صرف جرائم پیشہ عناصر تک پہنچنا آسان ہوتا ہے بلکہ دیگر لوگوں کو بھی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔