بلوچستان حکومت نے انتظامی افسران کو پولیس کے برابر اختیارات دے دیے، بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتے ہیں؟
بلوچستان حکومت نے انتظامی افسران کو پولیس کے برابر اختیارات دے دیے، بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتے ہیں؟
جمعرات 1 جنوری 2026 17:46
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
نئے اختیارات کے تحت اب مذکورہ انتظامی افسران پولیس اہلکاروں کو مدد کے لیے طلب کر سکتا ہے۔ (فائل فوٹو: ایکس)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز سمیت اضلاع میں تعینات انتظامی افسران کو پولیس افسران کے برابر اختیارات دے دیے ہیں۔ اب وہ جرم ملوث ہونے کے شبہ میں کسی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے کے علاوہ پولیس کو مقدمات کے اندراج کی ہدایت بھی جاری کر سکتے ہیں۔
گورنر کی منظوری کے بعد محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے 30 دسمبر بروز منگل کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 22 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے حکومت بلوچستان نے ڈویژنل کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ان کے متعلقہ ڈویژن، ضلع اور سب ڈویژن کے دائرہ اختیار میں ’جسٹس آف پیس‘ مقرر کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مقرر کردہ جسٹس آف پیس کو وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے جو ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 22 اے اور 22 بی میں دیے گئے ہیں اور وہ اپنے دائرہ اختیار میں یہ اختیارات استعمال کریں گے۔‘
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہو گا اور افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں، تاہم انہیں اس بات کا بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری یا نجی گاڑی پر جسٹس آف پیس کے عہدے کی نشانی یا علامت استعمال نہ کریں۔
واضح رہے کوڈ آف کرمنل پروسیجر یعنی ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 22 اے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس آف پیس کو پولیس افسر کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے جن میں دفعہ 54 اور 55 کے تحت پولیس افسر اور انچارج پولیس سٹیشن کے اختیارات بھی شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتا ہے، اگر وہ کسی قابل گرفت جرم میں ملوث ہو، اس کے خلاف معقول شکایت یا قابل اعتبار اطلاع موجود ہو یا اس پر معقول شبہ ہو۔ اگر کسی شخص کے قبضے میں گھر توڑنے کے آلات ہوں، چوری شدہ مال پایا جائے، یا وہ پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالے یا قانونی حراست سے فرار ہو جائے تو جسٹس آف پیس گرفتاری کر سکتا ہے۔
نئے اختیارات کے تحت اب مذکورہ انتظامی افسران پولیس اہلکاروں کو مدد کے لیے طلب کر سکتا ہے تاکہ امن عامہ برقرار رکھا جا سکے اور جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔ مزید برآں جسٹس آف پیس کو کسی بھی شخص کی شناخت کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کرنے، کسی بھی دستاویز کی تصدیق یا ایسی دستاویزات کی توثیق کرنے کا مجاز ہے جو قانون کے تحت مجسٹریٹ سے تصدیق شدہ ہونا ضروری ہو۔
اسی طرح دفعہ 22 بی کے تحت جسٹس آف پیس کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اگر کسی واقعے کی اطلاع ملے جو امن عامہ کی خلاف ورزی یا کسی جرم سے متعلق ہو تو وہ فوری تحقیقات کرے اور نتیجہ تحریری طور پر قریبی مجسٹریٹ اور پولیساسٹیشن کے انچارج کو بھیجے۔ اگر جرم قابل گرفت ہو تو وہ جرم کے مقام پر کسی چیز کو ہٹانے یا مداخلت کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ پولیس کی درخواست پر وہ تحقیقات میں مدد فراہم کرے اور موت کے خطرے سے دو چار افراد کے بیانات ریکارڈ کرے۔
ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 22 اے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس آف پیس کو پولیس افسر کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے۔ (فائل فوٹو: ڈی سی ایس اٹارنیز)
اس کے علاوہ جسٹس آف پیس شہریوں کی شکایت پر پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج کی ہدایت کر سکتا ہے جبکہ تفتیش ایک افسر سے دوسرے کو منتقل کرنے اور اختیارات میں کوتاہی یا زیادتی پر شکایات پر بھی پولیس کو ہدایات دے سکتا ہے۔
تاہم ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے رابطہ کرنے پر وضاحت کی کہ یہ درست نہیں کہ انتظامی افسران پولیس افسران کے برابر اختیارات استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان افسران کا بنیادی کردار صرف یہ ہو گا کہ اگر کوئی شہری ڈپٹی کمشنر کے پاس شکایت لے کر آئے تو وہ قانون کے مطابق پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کے لیے درخواست بھیج سکیں۔