Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج، جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک

رپورٹس کے مطابق سنیچر کو شروع ہونے والا احتجاج کا سلسلہ کئی شہروں تک پھیل گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے مختلف شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جو کہ چند روز قبل اٹھنے والی احتجاج کی لہر میں سامنے آنے والا پہلا جانی نقصان ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق احتحاج کا سلسلہ سنیچر کو اس وقت تہران سے شروع ہوا تھا جب دکانداروں نے اشیا کی قیمتیں بڑھنے اور معاشی جمود کے خلاف ہڑتال کی اور یہ سلسلہ ملک کے دوسرے حصوں تک پھیلتا چلا گیا۔
فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ صوبہ چہار محل کے شہر لردیگان میں جھڑپوں میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ صوبہ لورستان کے علاقے ازنا میں تین افراد جان سے گئے۔
 رپورٹ کے مطابق ’کچھ مظاہرین نے شہر کی انتظامی عمارات پر پتھراؤ شروع کیا جن میں گورنر کے دفتر کے علاوہ، ایک مسجد، مارٹرز فاؤنڈیشن کا دفتر، ٹاؤن ہال اور بینک شامل تھے۔ اس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔‘
ایجنسی کا کہنا ہے کہ ’پتھراؤ سے عمارات کو شدید نقصان پہنچا اور پولیس نے کافی تعداد میں گرفتاریاں بھی کیں۔ ازنا میں بلوائی مظاہرین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میں شامل ہو گئے اور پولیس سٹیشن پر حملہ کیا۔‘
ملک میں چلنے والی ایسی تحریکوں میں شرکت کرنے والوں کو پہلے بھی ریاستی میڈیا نے ’فسادی‘ قرار دیا تھا۔
قبل ازیں جمعرات کے ابتدائی گھنٹوں میں سرکاری ٹیلی وژن پر بتایا گیا تھا کہ کو ہدشت شہر میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا۔
رپورٹ میں صوبہ لرستان کے نائب گونر سید پورالی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ 21 سالہ اہلکار کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ امن عامہ کے لیے اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔

2022 میں ایران میں ایک خاتون کی دوران حراست ہلاکت پر احتجاج کی شدید لہر اٹھی تھی جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

اس کا تعلق شعبہ باسیج سے تھا جو کہ ایک رضاکار گروپ ہے اور ایران کی پاسداران انقلاب فورس کے ماتحت کام کرتا ہے۔
نائب گونر سید پورالی کے مطابق ’کوہدشت میں مظاہروں کے دوران 13 پولیس اور باسیج کے ارکان بھی زخمی ہوئے تھے۔‘
اسی طرح مغربی شہر ہمدان میں مظاہرین نے ایک موٹر سائیکل کو نذر آتش کیا جس کے حوالے سے تسنیم نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد قریبی مسجد کو آگ لگانا تھا مگر یہ کوشش ناکام ہوئی۔
جمعرات کو تہران کے ایک ضلع میں ’سکیورٹی فورسز اور انٹیلیجنس سروسز کے مربوط آپریشن‘ میں مبینہ طور پر امن عامہ کو نقصان پہنچانے سے متعلق جرائم کے تحت 30 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
یہ مظاہرے 2022 میں پھیلنے والی پرتشدد احتجاج کی لہر کے مقابلے میں چھوٹے ہیں جن کا سلسلہ مہسا امینی نامی خاتون کی دوران حراست ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔
خاتون کو ایران کے لباس کے ضابطے کے تحت حجاب نہ اوڑھنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
اس پر ملک کے طول و عرض میں احتجاج کی شدید لہر پھیل گئی تھی اور پرتشدد واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکار بھی شامل تھے۔

شیئر: