ایران نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے آغاز سے اب تک 21 افراد کو پھانسی دی: اقوامِ متحدہ
او ایچ سی ایچ آر نے کہا کہ ایران میں ’قومی سلامتی کے جرائم‘ کی وسیع اور مبہم تعریف کے باعث بہت سے افراد، بشمول بچے، سزائے موت کے خطرے میں ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اقوامِ متحدہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے کم از کم 21 افراد کو سزائے موت دی ہے اور 4,000 سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق، فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد، جنوری 2026 میں ایران میں ہونے والے احتجاج سے متعلق کم از کم 9 افراد کو پھانسی دی گئی، مزید 10 افراد کو مبینہ طور پر اپوزیشن گروپوں کی رکنیت کے الزام میں اور 2 کو جاسوسی کے الزامات پر سزائے موت دی گئی۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مزید بتایا کہ 4,000 سے زیادہ افراد کو قومی سلامتی سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق، بہت سے زیرِ حراست افراد کو جبری گمشدگی، تشدد یا ’ظالمانہ، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک‘ کا نشانہ بنایا گیا، جن میں جبری اعترافات (کبھی ٹی وی پر نشر بھی کیے گئے) اور جعلی پھانسیاں شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے ایک بیان میں کہا ’میں اس بات پر شدید دکھ ہے کہ پہلے سے جاری تنازع کے سنگین اثرات کے باوجود، ایرانی عوام کے حقوق کو حکام کی جانب سے سخت اور ظالمانہ طریقوں سے مسلسل سلب کیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جنگ کے دوران انسانی حقوق کو لاحق خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم، قومی سلامتی کا جواز پیش کیے جانے کے باوجود، انسانی حقوق کو صرف اسی حد تک محدود کیا جا سکتا ہے جہاں یہ سختی سے ضروری اور متناسب ہو۔‘
’میں حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مزید تمام پھانسیوں کو فوری طور پر روکا جائے، سزائے موت کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے، مکمل قانونی تقاضوں اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دی جائے، اور تمام بلاجواز گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔‘
او ایچ سی ایچ آر نے کہا کہ ایران میں ’قومی سلامتی کے جرائم‘ کی وسیع اور مبہم تعریف کے باعث بہت سے افراد، بشمول بچے، سزائے موت کے خطرے میں ہیں۔
ادارے کے مطابق، ملزمان کو اکثر تیز رفتار عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف بعض عدالتی فیصلے، جن میں کم از کم 9 افراد کی سزائے موت بھی شامل ہے، مبینہ طور پر جبری اعترافات پر مبنی تھے۔
ادھر درجنوں قیدیوں، جن میں وکیل نسرین ستودہ بھی شامل ہیں، جو 2012 میں یورپی پارلیمنٹ کے ساخاروف انسانی حقوق انعام کی فاتح رہ چکی ہیں، کو نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی کئی تنظیموں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، کے مطابق ایران ہر سال چین کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والا ملک ہے۔
