امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو نئی ہدایات جاری کی ہیں، جن کے تحت عارضی ویزا کے درخواست گزاروں سے یہ تصدیق لینا لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ملک واپس جانے سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اس مقصد کے لیے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کیبل کے ذریعے قونصلر افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں
رپورٹ کے مطابق انٹرویو کے آغاز سے قبل درخواست گزاروں سے دو سوالات لازمی پوچھے جائیں گے کہ کیا آپ کو اپنے ملک میں نقصان یا بدسلوکی کا سامنا رہا ہے؟ اور کیا آپ کو اپنے ملک واپس جانے سے خوف ہے؟
ہدایت میں کہا گیا ہے کہ اگر درخواست گزار ان سوالات کے جواب میں ’ہاں‘ دیں یا جواب دینے سے گریز کریں تو ان کے ویزا مسترد ہونے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جائیں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان افراد کی نشاندہی کرنا ہے جو ویزا حاصل کرتے وقت اپنے اصل ارادے چھپاتے ہیں اور بعد میں امریکہ پہنچ کر پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک وفاقی اپیل عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی سرحد پر ’دراندازی‘ کا جواز بنا کر پناہ گزینوں کو روکنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس کے بعد امریکہ میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے راستہ دوبارہ کھل گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی قانون اور 1951 کے ریفیوجی کنونشن کے تحت پناہ حاصل کرنے کا حق اس بات سے مشروط نہیں کہ کوئی شخص ملک میں کیسے داخل ہوا یا اس نے ویزا افسر کو کیا بتایا۔
تاہم نئی پالیسی ایسے افراد کو امریکہ پہنچنے سے پہلے ہی فلٹر کر سکتی ہے جو واقعی خطرات سے دوچار ہوں، جن میں گھریلو تشدد کے متاثرین، دھمکیوں کا سامنا کرنے والے صحافی یا مذہبی اقلیتوں کے افراد شامل ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی درخواست گزار اپنے حقیقی خوف کے باوجود ’نہیں‘ کا جواب دیتا ہے تو یہ امریکی قانون کے تحت جھوٹا بیان تصور ہو سکتا ہے، جس پر مستقل پابندی عائد ہو سکتی ہے۔
یہ ہدایات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری 2025 میں جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت دی گئی ہیں، جس کا مقصد امیگریشن سکریننگ کو مزید سخت بنانا اور ممکنہ سکیورٹی خطرات کو روکنا ہے۔
اسی پالیسی کے تحت بعد ازاں 12 ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر مکمل پابندی جبکہ مزید 7 ممالک پر جزوی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔












