اسرائیل کا سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر گہری غیر یقینی کیفیت میں داخل ہو رہا ہے کیونکہ نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کے درمیان اُبھرتی ہوئی قربت وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی طویل عرصے سے قائم بالادستی کے لیے اب تک کے سنگین ترین چیلنجز میں سے ایک کی علامت ہے۔
قوم پرست دائیں بازو اور سیاسی مرکز کے درمیان قائم یہ اتحاد نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ سیاسی ضرورت کا اظہار ہے۔ یہ دراصل برسوں کی جنگ، اندرونی تقسیم اور حکمت عملی کے جمود کے بعد نیتن یاہو کی قیادت سے عوامی بیزاری کے بڑھتے ہوئے احساس کا ایک سوچا سمجھا ردِعمل ہے۔
مزید پڑھیں
-
پاکستان کے عوام کے نام کھلا خط! ڈاکٹر علی عواض العسیریNode ID: 895147
دہائیوں تک نیتن یاہو نے خود کو اسرائیل کی سلامتی کے حتمی محافظ کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایک ایسا ناگزیر رہنما جو بڑھتے ہوئے علاقائی خطرات کے مقابلے میں ریاست کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کی سیاسی بقا بڑی حد تک اسی بیانیے پر منحصر رہی۔ انہوں نے فوجی کشیدگی، جارحانہ بازداری اور سخت گیر قوم پرستی کو اسرائیلی سلامتی کے لیے ناگزیر ہتھیاروں کے طور پر پیش کیا، تاہم آج یہ احتیاط سے تراشا گیا تصور زمینی حقائق کے بوجھ تلے بِکھرتا دکھائی دے رہا ہے۔
غزہ میں تباہ کن فوجی کارروائیوں کی نگرانی، لبنان کے ساتھ بار بار جھڑپوں اور ایران اور اس کے اتحادیوں سے متعلق وسیع تر علاقائی کشیدگی کے باوجود نیتن یاہو وہ فیصلہ کن کامیابیاں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وہ مسلسل اسرائیلی ووٹرز سے وعدہ کرتے رہے۔
اس کے برعکس اسرائیل کئی طویل تنازعات میں اُلجھا ہوا ہے جہاں فوجی بیزاری بڑھ رہی ہے، معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور سفارتی تنہائی گہری ہوتی جا رہی ہے۔
پائیدار سلامتی قائم کرنے کے بجائے نیتن یاہو کی پالیسیوں نے مسلسل محاذ آرائی کے ایک خطرناک چکر کو مضبوط کیا ہے۔ غزہ تباہ حال ہے مگر مسئلہ حل طلب ہے۔ لبنانی محاذ اب بھی سُلگ رہا ہے۔ علاقائی دشمنی برقرار ہے۔
خطرات کے خاتمے کے بجائے نیتن یاہو کی حکمتِ عملی اکثر یوں محسوس ہوتی ہے کہ وہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے سیاسی بقا کے لیے ان کا انتظام کر رہی ہے، بجائے اس کے کہ انہیں طویل المدت اور پائیدار منصوبہ بندی کے ذریعے حل کیا جائے۔

یہ صورت حال بہت سے اسرائیلیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ آیا نیتن یاہو کا قیادت کا ماڈل جو خوف، تقسیم اور فوجی طاقت پر مبنی ہے اپنی حدود کو پہنچ چکا ہے۔ انہیں جلد ہی اس بارے میں رائے دینے کا موقع ملے گا، کیونکہ 27 اکتوبر تک انتخابات متوقع ہیں۔
بینیٹ اور لاپید کا اتحاد اسی سیاسی بیزاری کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ اگرچہ بینیٹ زیادہ قوم پرست اور دائیں بازو کے حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ لاپید مرکز اور سیکولر ووٹرز میں مقبول ہیں۔
دونوں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ نیتن یاہو کی طویل حکمرانی اب قومی جمود کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ ان کا تعاون مشترکہ نظریاتی ہم آہنگی سے زیادہ اسرائیلی سیاست پر نیتن یاہو کی اجارہ داری کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔
یہ پہلو خود بھی سیاسی طور پر نہایت اہم ہے۔ نیتن یاہو کی طاقت طویل عرصے تک اپنے مخالفین کو تقسیم رکھنے اور خود کو افراتفری کے درمیان واحد قابلِ عمل رہنما کے طور پر پیش کرنے پر قائم رہی ہے۔ ایک متحد اپوزیشن، چاہے وہ غیر متوقع شراکت داروں پر مشتمل کیوں نہ ہو، اس فارمولے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

تاہم اگرچہ یہ اتحاد انتخابی سطح پر ایک قابلِ اعتبار چیلنج پیش کر سکتا ہے، اس میں ایک بنیادی کمزوری موجود ہے: بظاہر اس کا مقصد اسرائیل کے مستقبل کی نئی سَمت متعین کرنے کے بجائے محض نیتن یاہو کو ہٹانا ہے۔
اس بات کے شواہد کم ہیں کہ نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کے پاس ایسا مؤثر سیاسی وژن موجود ہے جو اسرائیل کے گہرے بنیادی مسائل کا حل پیش کر سکے۔ ان کا اتحاد وقتی طور پر مؤثر ہو سکتا ہے مگر حکمتِ عملی صرف ایک رہنما کو دوسرے سے بدل دینے سے کہیں زیادہ تقاضے رکھتی ہے۔
اسرائیل کو درپیش بنیادی چیلنجز بدستور بہت بڑے ہیں: فلسطینی مسئلے کا حل طلب رہنا، مذہبی قوم پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان، معاشرتی تقسیم میں اضافہ، عدالتی و آئینی عدم استحکام، اور فوجی حل کو اولین ترجیح دینے والی پالیسیوں کا معمول بن جانا۔ ان بنیادی مسائل پر بینیٹ-لاپید شراکت داری اب تک کوئی واضح متبادل پیش نہیں کر سکی۔
نہ کوئی ٹھوس امن منصوبہ سامنے آیا ہے، نہ انتہا پسند سیاسی دھڑوں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کی سنجیدہ حکمت عملی، اور نہ ہی اسرائیل کی متاثرہ عالمی ساکھ کی بحالی یا علاقائی تعلقات کی نئی تعریف کے لیے کوئی واضح خاکہ موجود ہے جو صرف فوجی زاویے سے آگے بڑھتا ہو۔

اسی لیے نیتن یاہو کی ممکنہ سیاسی کمزوری اگرچہ علامتی طور پر اہم ہے، لازمی طور پر کسی معنی خیز تبدیلی کی ضمانت نہیں دیتی۔
اسرائیل کو درپیش اصل مسئلہ صرف نیتن یاہو بطور فرد نہیں بلکہ وہ وسیع تر سیاسی نظام ہے جس نے ان کے طرزِ حکمرانی کو ممکن بنایا اور اسے برقرار رکھا۔
وقت کے ساتھ اسرائیلی سیاست بتدریج عوامیت پسندی، نسلی قوم پرستی اور سفارت کاری پر طاقت کو ترجیح دینے کی جانب مائل ہوتی گئی ہے۔ نیتن یاہو نے اس ماڈل کو کمال تک پہنچایا مگر اسے اکیلے تخلیق نہیں کیا۔
ان گہرے نظامی رجحانات کا سامنا کیے بغیر انہیں ہٹانا محض ظاہری تبدیلی سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوگا۔
درحقیقت اسرائیل صرف سیاسی کرداروں کی ایک ٹیم کو دوسری سے بدل سکتا ہے جبکہ بنیادی خرابیاں برقرار رہیں: مسلسل سلامتی کے بحران، بستیوں کا پھیلاؤ، حل طلب قبضہ اور بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم۔
بین الاقوامی مبصرین کے لیے اس لمحے کو خودکار جمہوری تجدید کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ قیادت کی تبدیلی لازماً ساختی اصلاح کے مترادف نہیں ہوتی۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کی اپوزیشن محض نیتن یاہو مخالفت سے آگے بڑھ کر ایک نئی قومی سَمت متعین کر سکتی ہے، ایسی سَمت جو داخلی جمہوری کمزوریوں اور دہائیوں سے جاری فوجی برتری کے باوجود حل نہ ہونے والی علاقائی عدم استحکام دونوں کا احاطہ کرے۔













