Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خلیج کی سلامتی سے قبل ایران کو ’قابل اعتماد ضمانتوں‘ کی ضرورت ہے: ایرانی نمائندہ

ایران کا کہنا ہے کہ تیل سے مالا مال خلیج کی سلامتی کو یقینی بنانے سے قبل اسے اس بات کی ضمانت کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس کے خلاف ایک اور حملہ نہیں کریں گے۔ 
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے عامر سعید ایراوانی نے اِن خیالات کا اظہار پیر کو بحرین کی درخواست پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔
 اجلاس میں شریک درجنوں ممالک نے ایران کی جانب سے آبنائے ہُرمز پر کنٹرول حاصل کرنے اور اِسے بند کرنے کی مذمت کی۔ 
اجلاس سے خطاب میں عامر سعید ایراوانی کا کہنا تھا کہ ’خلیج عرب اور خطے میں پائیدار استحکام اور سلامتی صرف ایران کے خلاف جارحیت کے مستقل خاتمے کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔‘
 اُن کے مطابق ’ایران کو جارحیت نہ ہونے کی ایسی قابل اعتماد ضمانتیں درکار ہیں جن میں اُس کے جائز قانونی حقوق اور مفادات کا مکمل احترام کیا جائے۔‘
بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عامر سعید ایراوانی نے شکایت کی کہ ممالک آبنائے ہُرمز کی بندش پر صرف ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جبکہ امریکہ کی طرف سے ایرانی بحری ناکہ بندی پر بات نہیں کرتے۔
’امریکہ بحری قزاقوں اور دہشت گردوں کی طرح کارروائیاں کر رہا ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں اور اُن کے عملے کو خوف زدہ کر رہا ہے، غیرقانونی طور پر جہازوں پر قبضہ کر رہا ہے اور عملے کے ارکان کو یرغمال بنا رہا ہے۔‘
ایران کے نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ ’اجلاس میں جن شرکا نے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے اپنی تشویش کا اظہار کیا، اُن میں سے کسی نے بھی امریکہ کی اِس دہشت گردانہ کارروائی کا حوالہ دیا نہ ہی مذمت کی جرات کی۔‘

شیئر: