شاہ عبدالعزیز اونٹ میلے میں صحرا نشین عرب قبائل کے ورثے کی نمائش
شاہ عبدالعزیز اونٹ میلے میں صحرا نشین عرب قبائل کے ورثے کی نمائش
ہفتہ 3 جنوری 2026 0:03
فیسٹیول میں آنے والوں کو ایک بھرپور اور مکمل تجربہ حاصل ہوتا ہے(فوٹو،ایس پی اے)
الصیاھد ہیرٹِج مارکیٹ جسے’الصیاھد خوانچے‘ بھی کہا جاتا ہے، شاہ عبدالعزیز کیمل فیسٹیول کے دسویں ایڈیشن میں خدمات فراہم کرنے میں نمایاں اور ثقافتی دلچسپی کا باعث بن گئی ہے۔
یہ ایک کھلی اور انٹرایکٹیو جگہ ہے جو روایتی صحرا نشین عرب قبائل کے ورثے کے مختلف عناصر میں جان ڈال دیتی ہے جس سے فیسٹیول میں آنے والوں کو ایک بھرپور اور مکمل تجربہ حاصل ہوتا ہے جو میراث، میزبانی اور جدید خدمات کا عمدہ ملاپ ہے۔
فیسٹیول میں کھلے روایتی بازار ہیں جہاں گھریلو صنعتوں میں کام کرنے والے خاندانوں کی بنائی ہوئی اشیا، مہارت کے ساتھ، ہاتھ سے تیار کی گئی چیزوں اور روایتی دستکاری کو عام لوگوں کے سامنے نمائش کے طور پر رکھا جا رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کےمطابق راویتی دستکاری میں مملکت کے مختلف علاقوں کا ثقافتی تنوع واضح نظر آتا ہے۔ اس مارکیٹ میں مقامی فنکار بھی بھر پورطریقے سے شریک ہیں جس سے انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانے میں مدد ملتی ہے۔
صیاھد ہیرٹِج مارکیٹ میں بین الاقوامی ریستوان بھی موجود ہیں(فوٹو،ایس پی اے)
اس مارکیٹ کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہاں کئی مشہور بین الاقوامی ریستوران بھی ہیں جبکہ مختلف جگہوں پر عالمی شہرت رکھنے والی’ کافی‘ بھی دستیاب ہے۔ فیسٹیول میں شریک لوگوں کے سامنے کھانے پینے کے لیے طرح طرح کے آپشن موجود ہیں۔
مارکیٹ میں نشستوں کا بہترین انتظام ہے جن پر بیٹھ کر مہمان ایک پُرسکون ماحول میں وقت گزار سکتے ہیں کیونکہ اس انتظام میں آرام کا امتزاج بھرپور روایتی خصوصیات کے ساتھ واضح نظر آتا ہے۔
زائرین محفوظ ومنظم جگہ پر روایتی لائف سٹائل کا عملی تجربہ کر سکتے ہیں(فوٹو،ایس پی اے)
الصیاھد مارکیٹ کے علاقے میں رات گزارنے کے لیے کیمپ اور خیموں کا انتظام بھی ہے جہاں آنے والوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
یہاں ٹھہرنے کے لیے انھیں زیادہ پیسے بھی نہیں خرچ کرنے پڑتے جس سے انھیں ایک ایسے ماحول میں رہائش دستیاب ہو جاتی ہے جس میں صحرا کی زندگی کی جھلک پائی جاتی ہے جس سے ان کا مجموعی تجربہ بہتر ہو جاتا ہے۔
یہاں آنے والے ایک محفوظ اور انتہائی منظم جگہ پر روایتی لائف سٹائل کا عملی تجربہ بھی کر سکتے ہیں۔