ایران پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کرے: حماس کا مطالبہ
ایران پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کرے: حماس کا مطالبہ
ہفتہ 14 مارچ 2026 15:57
فلسطینی اسلامی تنظیم حماس نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے کے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کرے، تاہم اس کے ساتھ ہی تنظیم نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف اپنے دفاع کے لیے ایران کے حق کی حمایت بھی کی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو ایک غیرمعمولی بیان میں حماس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ 28 فروری سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
اپنے بیان میں حماس نے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق اس جارحیت کا ہر ممکن ذریعے سے جواب دینے کے حق کی توثیق کرتے ہوئے ہم ایرانی بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے سے اجتناب کریں۔‘
یہ تہران کے لیے حماس کی جانب سے اس نوعیت کی پہلی عوامی اپیل ہے۔
حماس، جس نے غزہ میں اسرائیل کے ساتھ دو سالہ تباہ کن جنگ لڑی، نے عالمی برادری سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جاری جنگ کو فوری طور پر روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
اس سے قبل تنظیم نے جنگ کے پہلے دن ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’گھناؤنا جرم‘ قرار دیا تھا اور فلسطینی تحریک کے لیے ان کی دیرینہ حمایت کو سراہا تھا۔
حماس نے خامنہ ای کی ہلاکت کے فوراً بعد کہا تھا کہ ’انہوں نے ہمارے عوام، ہمارے مقصد اور ہماری مزاحمت کو ہر سطح پر سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کی۔‘
امریکہ اور اسرائیل کی برتر عسکری طاقت کے باوجود ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کم از کم 10 ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
قطر نے سنیچر کو اعلان کیا کہ اس نے دو میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے، جبکہ دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور حکام نے بعض علاقوں کو خالی کرا لیا۔
ایران سے حماس کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس کی اتحادی لبنانی مسلح تنظیم حزب اللہ بھی دوبارہ اس تنازع میں شامل ہو گئی ہے اور جنگ شروع ہوتے ہی اسرائیل پر سینکڑوں راکٹ داغ دیے۔
علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ اس جنگ میں شامل ہوئی، اور تب سے اسرائیلی حملوں میں لبنان میں تقریباً 800 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس کی تصدیق لبنانی وزارتِ صحت نے کی ہے۔
سنیچر کو دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور حکام نے بعض علاقوں کو خالی کرا لیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
قطر اور ترکیہ بھی نشانے پر
خطے کے ممالک کو نشانہ نہ بنانے کی حماس کی اپیل اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ایران طویل عرصے سے اس تنظیم کا ایک اہم حامی رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران ہر برس حماس کو کروڑوں ڈالر کی مالی امداد فراہم کرتا رہا ہے۔
علی خامنہ ای کے دور میں ایران فلسطینی گروہوں، خصوصاً حماس کی حمایت کو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنی علاقائی حکمت عملی کا بنیادی ستون سمجھتا تھا۔
چند سنی اکثریتی ممالک نے بھی حماس کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہیں، خصوصاً قطر اور ترکیہ نے۔
قطر غزہ میں حماس کے دورِ حکومت کے دوران ایک اہم مالی معاون رہا ہے۔ اس کی زیادہ تر امداد کو انسانی ہمدردی یا تعمیرِ نو کی مدد قرار دیا جاتا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، ایندھن اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل تھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ چونکہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینی علاقوں میں جنگ شروع ہونے تک حماس پورے غزہ پر حکمرانی کر رہی تھی، اس لیے اس امداد کے بعض حصوں نے بالواسطہ طور پر تنظیم کی سیاسی طاقت کو بھی مضبوط کیا۔
قطر نے دوحہ میں حماس کی سیاسی قیادت کی میزبانی بھی کی، جس کے باعث تنظیم کو بین الاقوامی روابط برقرار رکھنے اور مذاکرات و ثالثی کی کوششوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران ہر برس حماس کو کروڑوں ڈالر کی مالی امداد فراہم کرتا رہا ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
دوسری جانب ترکیہ نے بڑے پیمانے پر براہِ راست مالی امداد کے بجائے زیادہ تر سیاسی اور سفارتی حمایت فراہم کی ہے۔
صدر رجب طیب اردوغان کے دور میں انقرہ نے بیانات کے ذریعے حماس کی حمایت کی اور اس کے رہنماؤں کے دوروں کی میزبانی بھی کی۔
گذشتہ روز جمعے کو ترکیہ نے بتایا کہ ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل ترک فضائی حدود میں نیٹو کی افواج نے مار گرایا۔