سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز کیمل فیسٹیول میں بین الاقوامی سیاحوں کی شرکت کا ریکارڈ قائم ہو گیا۔ منتظمین کے مطابق تین ہزار سے زیادہ غیرملکی اس فیسٹیول کو دیکھنے کے لیے آ چکے ہیں۔
کیمل فیسٹیول میں غیرملکیوں کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت سے سعودی عرب میں اس تقریب کی شہرت اعلٰی معیار کے ایک ثقافتی ایونٹ کی حیثیت سے مستحکم ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں
-
شاہ عبدالعزیز کیمل فیسٹیول کے موقع پر خصوصی امیگریشن مہرNode ID: 898572
یہ فیسٹیول اب دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے اور مملکت کی ثقافت اور سیاحتی شعبے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق منتظمین نے بتایا کہ کیمل فیسٹیول میں 50 سے زیادہ ممالک سے شرکت کے لیے سیاح آئے ہیں۔
یہ افراد اونٹوں کی اس دنیا میں کھو جاتے ہیں اور ان کے منفرد مقابلوں سے لطف اٹھاتے ہیں جو فیسٹیول کا طرۂ امتیاز ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں اس فیسٹیول میں سیاحوں کا آنا ظاہر کرتا ہے کہ اس ایونٹ کے ساتھ لوگوں کی دلچپسی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ اب یہ ایک اہم ثقافتی تقریب کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اس فیسٹیول میں صرف اونٹوں کی خرید و فروخت یا مقابلے ہی نہیں ہوتے بلکہ یہاں کئی مختلف ثقافتی اور تفریحی پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔
یہ پروگرام سیاحوں کو اونٹوں کی متنوع دنیا سے متعارف کراتے ہیں۔ اس میں اونٹوں کی نسل سے لے کر سعودی ورثے میں ان کی اہمیت تک سب کچھ شامل ہے۔

انٹرایکٹیو نمائش اور تعلیمی پریزینٹیشنز کے ذریعے، سیاحوں کو مملکت میں اس ثقافتی قدر کا بہتر ادراک ہوتا ہے جو اونٹ سے وابستہ ہے۔
کئی سیاحوں نے فیسٹیول کے اعلٰی انتظام کے بارے میں تعریفی کلمات کہے ہیں اور اس مہمان نوازی کا خاص طور پر ذکر کیا ہے جو انھیں مملکت میں ملتی ہے۔
وہ اس ایونٹ کو ایک ’جیتا جاگتا میوزیم‘ قرار دیتے ہیں جس میں روایت، انتہائی نفاست اور خوبصورتی آج کل کے دور کی تفریح کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔

شاہ عبدالعزیز کیمل فیسٹیول میں سیاحوں کی شرکت میں اتنا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے یہ تقریب سیاحت اور ورثے کے مابین ایک پُل کا کام کرتی ہے اور اس فیسٹیول کو سعودی عرب کی ان کوششوں کے طور پر سامنے لا رہی ہے جو وہ اپنی ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے کر رہا ہے۔
کیمل فیسٹیول اب نہ صرف ایک بڑے ثقافتی منظر میں تبدیل ہو چکا ہے بلکہ مملکت کے اس وژن کی علامت بھی بن گیا ہے جس کے تحت ثقافتی تبادلوں اور سیاحت میں اضافہ کیا جانا ہے۔
اس سے سعودی عرب کی زرخیز میراث اور اسے محفوظ بنا کر دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کے عزم کا بھی اظہار ہوتا ہے۔











