Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’زیادہ روشن اور بڑا‘ سعودی عرب کے کئی علاقوں میں ’وولف مون‘ کے نظارے

سعودی ماہر فلکیات کے مطابق یہ واقعہ کوئی منفی اثرات مرتب نہیں کرتا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے حدود الشمالیہ ریجن سمیت کئی علاقوں میں سنیچر کو ’وولف مون‘ کا نظارہ کیا گیا جو 2026 کا پہلا سپرمون ہے۔
ایس پی اے کے مطابق سپرمون نے ایک شاندار فلکیاتی منظر تخلیق کیا جو نہ صرف فلکیات کے ماہرین بلکہ عام افراد کے لیے بھی ایک یاد گار تجربہ تھا۔

فلکیات اور خلائی کلب کے رکن عدنان الخلیفہ نے کہا کہ ’ہر سال جنوری میں پہلے پورے چاند کو ’وولف مون‘ کا نام دیا جاتا ہے، یہ نام شمالی نصف کرہ میں موسم سرما سے وابستہ قدیم روایات میں ملتا ہے جب اس موسم میں بھیڑیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’چاند  اور زمین معمول سے زیادہ قریب آجاتے ہیں، اس کے نتیجے میں چاند عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ روشن اور بڑا دکھائی دیتا ہے جسے فلکیاتی طور پر سپر مون کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق یہ واقعہ کوئی منفی اثرات مرتب نہیں کرتا۔ حدود الشمالیہ کا صاف آسمان شوقیہ فوٹو گرافروں اور فلکیاتی اجسام کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے۔
 انہوں نے اس میں دلچسپی رکھنے والوں پر زور دیا کہ وہ اس طرح کے نادر واقعات سے فائدہ اٹھائیں۔ فلکیاتی آگاہی پھیلانے کے ساتھ معاشرے میں خلائی سائنس کے کلچر کو فروغ دیں۔

یاد رہے جنوری کے چاند کو وولف مون کے علاوہ کولڈ مون یا ہارڈ مون بھی کہا جاتا ہے۔ ان ناموں کو روایتی سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ان میں سے کئی نام حالیہ برسوں میں زیادہ مقبول ہوئے ہیں۔
دیگر فلکیاتی مظاہر کے برعکس سپر مون دیکھنے کے لیے کسی خاص آلات یا تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ درحقیقت بعض اوقات کسی مصروف مقام سے دیکھنا بہتر ثابت ہوتا ہے کیونکہ افق پر موجود عمارتیں یا اشیا چاند کے حجم اور اس کے اثر کو مزید نمایاں کر دیتی ہیں۔

 

شیئر: