Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین اور پاکستان کا سٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران تعاون مزید بڑھانے کا عزم: دفترِ خارجہ

دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا۔‘ فوٹو: اے پی پی
چین اور پاکستان نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور ( سی پیک) سمیت تمام شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اتوار کی شام اسلام آباد میں دفتر خارجہ سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہوا۔
دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کا سٹریٹجک ڈائیلاگ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ ترین مشاورتی طریقہ کار ہے جو دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کے ساتھ باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ساتویں پاک چین وزرائے خارجہ کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کی۔
دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور علاقائی اور عالمی سطح کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔‘
بیان کے مطابق ’سی پیک، تجارت، کثیرالجہتی تعاون اور عوامی سطح کے رابطوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘
پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ تزویراتی، سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ اسلام آباد اور بیجنگ دونوں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر قریبی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہیں۔ دونوں ملک کثیرالجہتی فورمز پر ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی حمایت کرتے ہیں۔
چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق پاکستان کے ساتھ اس کی دو طرفہ تجارت 2024 میں 23 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ سال بہ سال کی بنیاد پر 11 فیصد زیادہ ہے۔
اسلام آباد بیجنگ کو ایک اہم سرمایہ کاری پارٹنر کے طور پر بھی دیکھتا ہے جس نے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران سی پیک، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

پاکستان کے صدر آصف زرداری نے گزشتہ سال چین کا دورہ کیا تھا۔ فائل فوٹو: اے پی پی

دفتر خارجہ کے مطابق ’آل ویدر سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاک چین دوستی خطے اور دونوں ممالک کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔‘
بیان کے مطابق ’انہوں نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کو شایان شان طریقے سے منانے پر بھی اتفاق کیا۔‘
دفتر خارجہ نے بیان میں مزید کہا کہ ’دونوں فریقوں نے پارٹی ٹو پارٹی تبادلوں، علاقائی صورتحال اور سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کے استحکام اور مستقبل کی جانب پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘

 

شیئر: