میرا ارادہ زورین نظامانی کے کالم پر بحث کرنے کا نہیں، اس پر بہت بات ہو چکی، اس کی مخالفت میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے اسے بھی زیربحث نہیں لانا چاہ رہا ہوں۔ ہر ایک کی اپنی رائے اور تجزیہ ہوتا ہے جسے جو درست لگے، وہ کہہ یا لکھ رہا ہے۔
البتہ میں یہ ضرور کہنا چاہ رہا ہوں کہ ہمیں جنریشن زی کو زیادہ توجہ سے سننا اور پڑھنا چاہیے۔ ان سے بات کریں اور ایسا کرتے ہوئے پلیز اپنے پہلے سے موجود تعصبات، مفروضوں اور اندازوں کو کچھ دیر کے لیے ایک سائیڈ پر رکھ دیں۔ یقین مانیں آپ بہت کچھ مختلف اور نیا دیکھ سکیں گے۔
مزید پڑھیں
-
جین زی کے مسائل پر مبنی ڈرامہ پرورش: ’جذبات کا رولر کوسٹر‘Node ID: 888904
-
کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 895470
جنریشن زی کی مسٹری
اصطلاحاً جنریشن زی سے مراد وہ نسل ہے جو 1997 سے 2012 تک پیدا ہوئی ہے۔ اس کے بعد والے الفا جنریشن کہلاتے ہیں۔ یعنی جو لڑکے اس وقت 18،19 سال سے لے کر 27، 28 تک ہیں، یہ سب جنریشن زی ہیں۔
اگر ہم پاکستانی پس منظر میں بات کریں تو اس کا مطلب یہ ہوا پاکستان کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ کالجوں، یونیورسٹیز میں پڑھنے والے طلبہ وطالبات جنریشن زی ہیں۔
تمام نوجوان ڈاکٹرز، انجینیئرز، سافٹ ویئرانجینیئرنگ، آئی ٹی، بینکنگ، لا، اکاؤنٹس، آرکیٹیکچر، فائن آرٹس، بزنس ایڈمنسٹریشن، شیف، ٹیکنیشن، نرسنگ سٹوڈنٹس غرض ان تمام شعبوں کو سیکھنے والے، تعلیم حاصل کر کے مارکیٹ میں آنے والے سب ہی جین زی ہیں۔
صرف یہی نہیں پاکستان کے تمام دینی مدارس میں پڑھنے والے کئی ملین طلبہ وطالبات بھی جنریشن زی ہیں۔
ہمارے دائیں بائیں، گلی محلے، بازاروں میں مختلف نوعیت کے ٹیکنیکل کام یعنی پلمبر، الیکٹریشن، کارپینٹر، موٹرسائیکل مکینک وغیرہ کو سیکھنے والے بھی جنریشن زی ہیں۔
تھوڑا غور کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ میری نسل (50 سال کے لگ بھگ) کے تمام لوگوں کے بچے جنریشن زی ہیں یا پھر الفا جنریشن۔ تھوڑا سا مزید وسیع کریں تو یہ سمجھ لیں کہ میرے، ہمارے، آپ کے ٹین ایجر بچوں کے ہونے والے ممکنہ لائف پارٹنرز (بہو، داماد) بھی جنریشن زی ہیں۔

میری عمر کے لوگ اپنی بیٹی کے لیے جو داماد ڈھونڈیں گے، اپنے بیٹوں کے لیے جو بہو لائیں گے وہ بھی خیر سے جنریشن زی ہوگی یا بمشکل دو تین سال پہلے ہی اس فیز سے نکلی ہوگی۔
اس کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا یہ مطلب ہوا حضور والا کہ میری، آپ کی، ہماری، ہم سب کی زندگیوں کا دارومدار اسی جنریشن زی پر ہے۔ ہم اپنے کام کاج، علاج معالجے، ہر دنیاوی اور دینی مسئلے کے حل کے لیے انہی نوجوانوں کے محتاج ہیں۔
ہسپتال جائیں گے تو نرس سے لے کر میڈیکل ٹیکنیشن اور پھر علاج کے لیے ڈاکٹر سے ڈسپنسراور پھر میڈیکل سٹور میں دوائیاں دینے والا بھی جنریشن زی ہے۔ یہی سب کچھ آپ آرام سے باقی تمام شعبوں پر بھی فٹ کر دیں۔
جنریشن زی کے متعلق مغالطے، غلط مفروضے
میں نے محسوس کیا ہے کہ اداکارہ فضیلہ قاضی اور قیصر خان کے صاحبزادے زورین نظامانی کے کالم کے ردعمل میں بہت سے لوگ خواہ مخواہ جنریشن زی پر حملہ آور ہوئے ہیں۔
بعض کے خیال میں یہ نئی نسل ناکارہ ہے، پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، ڈھنگ کے سوال نہیں پوچھتی، ان کے خیالات میں گہرائی، سوچ میں ندرت نہیں۔ بلکہ یہ تو ایسے کلٹ ہیں سوچنے سمجھنے سے عاری مخلوق جن کے پاس شاید دماغ ہی نہیں وغیرہ وغیرہ۔
دراصل زورین نظامانی کے کالم کے ردعمل میں دو تین مفروضے بنا لیے گئے۔ پہلا یہ کہ جنریشن زی صرف تحریک انصاف کی حامی اور موجودہ حکمران اتحاد اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالف ہے۔

دوسرا یہ کہ ان کی یہ مخالفت بلاجواز اور بے بنیاد، محض سیاسی وجہ سے ہے۔
تیسرا مفروضہ یہ ہے کہ ان نوجوانوں نے بزرگوں کو بومرز کہہ کر ان کا مذاق اڑایا ہے ان پر بے جا تنقید کی ہے، یوں نوجوان نسل گستاخ ثابت ہوئی ہے۔
یہ تینوں باتیں غلط ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ جنریشن زی میں سب عمران خان یا تحریک انصاف کے حامی ہیں۔ الیکشن کو قریب سے مانیٹر کرنے والوں کے سروے رپورٹس کے مطابق نوجوانوں کی خاصی تعداد نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا مگر تحریک انصاف کے ووٹ بینک کا بڑا حصہ بڑی عمر کے افراد اور خواتین پر مشتمل ہے، ان میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو 60 برس سے زیادہ ہوچکی ہیں یعنی بومرز۔ دوسری طرف حکمران طبقے پر تنقید کرنے والے صرف انصافین نہیں بلکہ دیگر جماعتوں کے بھی نوجوان اتنے ہی نالاں اور فرسٹریٹڈ ہیں۔ البتہ بومرز والے اعتراض کو مزید غور سے دیکھ لیتے ہیں۔
جنریشن زی بمقابلہ بومرز کا معاملہ کیا ہے؟
اصطلاح کے مطابق بومرز سے مراد وہ لوگ ہیں جو دوسری جنگ عظیم یعنی 1946 سے 1964 تک پیدا ہوئے۔ یعنی 50 کے عشرے اور 60 کے عشرے کے وسط تک پیدا ہونے والے۔
اس اصطلاح پر غور فرمائیں تو پاکستان میں شرح وفات دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بومرز کی بڑی تعداد تو دنیا سے رخصت ہی ہو چکی ہے۔ ان کا نصف سے کم حصہ ہی بچا ہے جو کہ اس وقت 65 سے 75 برس تک ہے ۔ یعنی تکنیکی طور پر یہ تمام لوگ ہر قسم کی سرکاری، پرائیویٹ ملازمتوں سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 70، 75 سال کے کسی بوڑھے، ریٹائر، بیمار بزرگ سے کسی نوجوان کو کیا پرخاش ہو سکتی ہے؟ آج کے لڑکے یا لڑکیاں اپنے والد ہی نہیں بلکہ دادا، نانا کی عمر کے بزرگوں پر کیوں برہم یا ناراض ہوں گے؟
اصل میں بومرز ایک مائنڈ سیٹ کا نام بھی ہے۔ اس کا تعلق عمر سے تو ہے ہی مگر یہ ذہنی اپروچ ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک ساٹھ 65، 75 یا 80 برس کا شخص کشادہ ذہن اور عوام دوست خیالات کا حامل ہو۔
جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک 20، 22 سالہ نوجوان اپنے گلے سڑے خیالات، ازکار رفتہ سوچ، فکری غلامانہ طبعیت کی وجہ سے ’بومرز‘ کا حصہ ہو۔ مسئلہ جنریشن زی یا بومرز کی لڑائی کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کون غلط جگہ اور غلط سمت پر کھڑا ہے۔
البتہ یہ ہے کہ پاکستان میں کئی غلط چیزیں پچھلے 50، 60 برسوں سے ہو رہی ہیں۔
جیسے ضیا کے دور میں مذہب کا استعمال، حب الوطنی کو بطور ہتھیار اور اموشنل بلیک میلنگ استعمال کرنا۔ جو سوال اٹھائے اسے غدار کہہ دینا۔ مختلف لسانی، قومیتی کارڈز کھیلنا وغیرہ۔
یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمارے بومرز نے بھی فیس کیں، میری جنریشن ایکس نے بھی انہیں سہا جبکہ اس کے بعد والی جنریشن ملینیئلز بھی کسی نہ کسی طرح انہیں برداشت کرتی رہی۔ جنریشن زی کے پاس البتہ اس حوالے سے زیرو ٹالرینس ہے۔
ہمارے بچے ان باتوں پر بے وقوف بننے کو ہرگز تیار نہیں۔ وہ انہیں ذرا بھر بھی اہمیت نہیں دیتے اور فوری رد کر دیتے ہیں۔ اس احتجاجی باغیانہ طرز فکر اور طرزعمل کو آپ چاہیں تو اینٹی بومرز کہہ لیں، درحقیقت یہ ان پرانے، گھسے پٹے حربوں کے خلاف ابھرتی سوچ ہے۔












