Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہم جنریشن زی کو سمجھنے میں غلطی کر رہے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم

یہ تاثر ہے کہ جین زی تحریک انصاف کی حامی اور موجودہ حکومت اتحاد کے خلاف ہے (فوٹو: پی ٹی آئی، سوشل میڈیا)
میرا ارادہ زورین نظامانی کے کالم پر بحث کرنے کا نہیں، اس پر بہت بات ہو چکی، اس کی مخالفت میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے اسے بھی زیربحث نہیں لانا چاہ رہا ہوں۔ ہر ایک کی اپنی رائے اور تجزیہ ہوتا ہے جسے جو درست لگے، وہ کہہ یا لکھ رہا ہے۔
البتہ میں یہ ضرور کہنا چاہ رہا ہوں کہ ہمیں جنریشن زی کو زیادہ توجہ سے سننا اور پڑھنا چاہیے۔ ان سے بات کریں اور ایسا کرتے ہوئے پلیز اپنے پہلے سے موجود تعصبات، مفروضوں اور اندازوں کو کچھ دیر کے لیے ایک سائیڈ پر رکھ دیں۔ یقین مانیں آپ بہت کچھ مختلف اور نیا دیکھ سکیں گے۔

جنریشن زی کی مسٹری

اصطلاحاً جنریشن زی سے مراد وہ نسل ہے جو 1997 سے 2012 تک پیدا ہوئی ہے۔ اس کے بعد والے الفا جنریشن کہلاتے ہیں۔ یعنی جو لڑکے اس وقت 18،19 سال سے لے کر 27، 28 تک ہیں، یہ سب جنریشن زی ہیں۔
اگر ہم پاکستانی پس منظر میں بات کریں تو اس کا مطلب یہ ہوا پاکستان کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ کالجوں، یونیورسٹیز میں پڑھنے والے طلبہ وطالبات جنریشن زی ہیں۔
تمام نوجوان ڈاکٹرز، انجینیئرز، سافٹ ویئرانجینیئرنگ، آئی ٹی، بینکنگ، لا، اکاؤنٹس، آرکیٹیکچر، فائن آرٹس، بزنس ایڈمنسٹریشن، شیف، ٹیکنیشن، نرسنگ سٹوڈنٹس غرض ان تمام شعبوں کو سیکھنے والے، تعلیم حاصل کر کے مارکیٹ میں آنے والے سب ہی جین زی ہیں۔
صرف یہی نہیں پاکستان کے تمام دینی مدارس میں پڑھنے والے کئی ملین طلبہ وطالبات بھی جنریشن زی ہیں۔
ہمارے دائیں بائیں، گلی محلے، بازاروں میں مختلف نوعیت کے ٹیکنیکل کام یعنی پلمبر، الیکٹریشن، کارپینٹر، موٹرسائیکل مکینک وغیرہ کو سیکھنے والے بھی جنریشن زی ہیں۔
تھوڑا غور کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ میری نسل (50 سال کے لگ بھگ) کے تمام لوگوں کے بچے جنریشن زی ہیں یا پھر الفا جنریشن۔ تھوڑا سا مزید وسیع کریں تو یہ سمجھ لیں کہ میرے، ہمارے، آپ کے ٹین ایجر بچوں کے ہونے والے ممکنہ لائف پارٹنرز (بہو، داماد) بھی جنریشن زی ہیں۔

’یہ کہنا غلط ہے کہ نوجوان نسل بے وقوف، کم پڑھی لکھی، کم سمجھدار ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

میری عمر کے لوگ اپنی بیٹی کے لیے جو داماد ڈھونڈیں گے، اپنے بیٹوں کے لیے جو بہو لائیں گے وہ بھی خیر سے جنریشن زی ہوگی یا بمشکل دو تین سال پہلے ہی اس فیز سے نکلی ہوگی۔
اس کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا یہ مطلب ہوا حضور والا کہ میری، آپ کی، ہماری، ہم سب کی زندگیوں کا دارومدار اسی جنریشن زی پر ہے۔ ہم اپنے کام کاج، علاج معالجے، ہر دنیاوی اور دینی مسئلے کے حل کے لیے انہی نوجوانوں کے محتاج ہیں۔
ہسپتال جائیں گے تو نرس سے لے کر میڈیکل ٹیکنیشن اور پھر علاج کے لیے ڈاکٹر سے ڈسپنسراور پھر میڈیکل سٹور میں دوائیاں دینے والا بھی جنریشن زی ہے۔ یہی سب کچھ آپ آرام سے باقی تمام شعبوں پر بھی فٹ کر دیں۔

جنریشن زی کے متعلق مغالطے، غلط مفروضے

میں نے محسوس کیا ہے کہ اداکارہ فضیلہ قاضی اور قیصر خان کے صاحبزادے زورین نظامانی کے کالم کے ردعمل میں بہت سے لوگ خواہ مخواہ جنریشن زی پر حملہ آور ہوئے ہیں۔
بعض کے خیال میں یہ نئی نسل ناکارہ ہے، پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، ڈھنگ کے سوال نہیں پوچھتی، ان کے خیالات میں گہرائی، سوچ میں ندرت نہیں۔ بلکہ یہ تو ایسے کلٹ ہیں سوچنے سمجھنے سے عاری مخلوق جن کے پاس شاید دماغ ہی نہیں وغیرہ وغیرہ۔
دراصل زورین نظامانی کے کالم کے ردعمل میں دو تین مفروضے بنا لیے گئے۔ پہلا یہ کہ جنریشن زی صرف تحریک انصاف کی حامی اور موجودہ حکمران اتحاد اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالف ہے۔

بومرز سے مراد وہ لوگ ہیں جو دوسری جنگ عظیم یعنی 1946 سے 1964 تک پیدا ہوئے (فوٹو: ڈی پی اے)

دوسرا یہ کہ ان کی یہ مخالفت بلاجواز اور بے بنیاد، محض سیاسی وجہ سے ہے۔
تیسرا مفروضہ یہ ہے کہ ان نوجوانوں نے بزرگوں کو بومرز کہہ کر ان کا مذاق اڑایا ہے ان پر بے جا تنقید کی ہے، یوں نوجوان نسل گستاخ ثابت ہوئی ہے۔
یہ تینوں باتیں غلط ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ جنریشن زی میں سب عمران خان یا تحریک انصاف کے حامی ہیں۔ الیکشن کو قریب سے مانیٹر کرنے والوں کے سروے رپورٹس کے مطابق نوجوانوں کی خاصی تعداد نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا مگر تحریک انصاف کے ووٹ بینک کا بڑا حصہ بڑی عمر کے افراد اور خواتین پر مشتمل ہے، ان میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو 60 برس سے زیادہ ہوچکی ہیں یعنی بومرز۔ دوسری طرف حکمران طبقے پر تنقید کرنے والے صرف انصافین نہیں بلکہ دیگر جماعتوں کے بھی نوجوان اتنے ہی نالاں اور فرسٹریٹڈ ہیں۔ البتہ بومرز والے اعتراض کو مزید غور سے دیکھ لیتے ہیں۔

جنریشن زی بمقابلہ بومرز کا معاملہ کیا ہے؟

اصطلاح کے مطابق بومرز سے مراد وہ لوگ ہیں جو دوسری جنگ عظیم یعنی 1946 سے 1964 تک پیدا ہوئے۔ یعنی 50 کے عشرے اور 60 کے عشرے کے وسط تک پیدا ہونے والے۔
اس اصطلاح پر غور فرمائیں تو پاکستان میں شرح وفات دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بومرز کی بڑی تعداد تو دنیا سے رخصت ہی ہو چکی ہے۔ ان کا نصف سے کم حصہ ہی بچا ہے جو کہ اس وقت 65 سے 75 برس تک ہے ۔ یعنی تکنیکی طور پر یہ تمام لوگ ہر قسم کی سرکاری، پرائیویٹ ملازمتوں سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔

50 سال کی عمر کے لوگوں کے بچے جین زی ہیں یا پھر الفا جنریشن (فوٹو: اے ایف پی)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 70، 75 سال کے کسی بوڑھے، ریٹائر، بیمار بزرگ سے کسی نوجوان کو کیا پرخاش ہو سکتی ہے؟ آج کے لڑکے یا لڑکیاں اپنے والد ہی نہیں بلکہ دادا، نانا کی عمر کے بزرگوں پر کیوں برہم یا ناراض ہوں گے؟
اصل میں بومرز ایک مائنڈ سیٹ کا نام بھی ہے۔ اس کا تعلق عمر سے تو ہے ہی مگر یہ ذہنی اپروچ ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک ساٹھ 65، 75 یا 80 برس کا شخص کشادہ ذہن اور عوام دوست خیالات کا حامل ہو۔
جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک 20، 22 سالہ نوجوان اپنے گلے سڑے خیالات، ازکار رفتہ سوچ، فکری غلامانہ طبعیت کی وجہ سے ’بومرز‘ کا حصہ ہو۔ مسئلہ جنریشن زی یا بومرز کی لڑائی کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کون غلط جگہ اور غلط سمت پر کھڑا ہے۔
البتہ یہ ہے کہ پاکستان میں کئی غلط چیزیں پچھلے 50، 60 برسوں سے ہو رہی ہیں۔
جیسے ضیا کے دور میں مذہب کا استعمال، حب الوطنی کو بطور ہتھیار اور اموشنل بلیک میلنگ استعمال کرنا۔ جو سوال اٹھائے اسے غدار کہہ دینا۔ مختلف لسانی، قومیتی کارڈز کھیلنا وغیرہ۔
یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمارے بومرز نے بھی فیس کیں، میری جنریشن ایکس نے بھی انہیں سہا جبکہ اس کے بعد والی جنریشن ملینیئلز بھی کسی نہ کسی طرح انہیں برداشت کرتی رہی۔ جنریشن زی کے پاس البتہ اس حوالے سے زیرو ٹالرینس ہے۔
ہمارے بچے ان باتوں پر بے وقوف بننے کو ہرگز تیار نہیں۔ وہ انہیں ذرا بھر بھی اہمیت نہیں دیتے اور فوری رد کر دیتے ہیں۔ اس احتجاجی باغیانہ طرز فکر اور طرزعمل کو آپ چاہیں تو اینٹی بومرز کہہ لیں، درحقیقت یہ ان پرانے، گھسے پٹے حربوں کے خلاف ابھرتی سوچ ہے۔

سرویز کے مطابق نوجوانوں کی بڑی تعداد نے الیکشن میں ووٹ ڈالے (فوٹو: اے ایف پی)

جنریشن زی کو سمجھیے

میری دیانت دارانہ رائے میں یہ کہنا غلط ہے کہ نوجوان نسل بے وقوف، کم پڑھی لکھی، کم سمجھدار ہے۔ جنریشن زی کتابیں نہیں پڑھتی، سوچتی نہیں، ان میں فکری گہرائی نہیں جیسی باتیں بھی درست نہیں۔ ہر نسل میں پڑھنے والے اور نالائق دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں، کتابی کیڑے اور کتابوں سے بیزار بھی۔ ایسا نہیں کہ بومرز میں سب کتابیں پڑھنے والے، لائق فائق جینئس تھے۔
ایسا بھی ہرگز نہیں تھا کہ ہماری نسل جنریشن ایکس یعنی جو لوگ آج 40 سے 55 کے ہیں، یہ کتابیں سرہانے رکھ کر سوتے ہیں، رات کو اٹھ کر شعر کہتے اور نوٹ بک میں لکھ ڈالتے ہیں۔
نہیں بھائی ہم بھی اتنے ہی گئے گزرے ہیں جتنے ہم سے پہلے والے تھے۔ ہر دور میں چند ہزار لوگ یا لاکھ دو لاکھ کہہ لیں، صرف اتنے ہی کتابیں پڑھنے والے، بحث مباحثے کرنے والے ہوتے ہیں۔ باقی عظیم اکثریت ان تمام فکری مباحث سے بے نیاز رہتی ہے۔ کتابیں 50 سال پہلے بھی کم ہی پڑھی جاتی تھیں، آج بھی وہی حال ہے۔ غالب، میر، اقبال، فیض پر لکھی کتاب کا ایک ہزار کا ایڈیشن 50 کے عشرے میں نہیں بکتا تھا، 70، 80، 90 اور آج کے زمانے میں بھی کم وبیش وہی حال ہے۔
سیاسی شعور بھی ملا جلا ہی رہا ہے۔ ووٹ بیچنے والے 40،50 سال پہلے بھی پیسے لے کر ووٹ بیچ دیتے تھے، آج بھی وہ پیسے پکڑ لیتے ہوں گے۔ البتہ ہم نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ پچھلے الیکشن میں لوگوں نے قیمے والے نان، بریانی وغیرہ سے بے نیاز ہو کر ووٹ ڈالے۔
غیر معروف، الٹ سلٹ سے انتخابی نشان ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان پر مہریں لگائیں۔ ایسا کرنے والوں میں بومرز بھی تھے، جنریشن ایکس، ملینیئلز اور جنریش زی سب ہی شامل رہے۔
آج کے نوجوانوں کا سٹائل اور طریقہ مختلف ہے۔ ہماری نسل کے لوگ بھی نوجوانی میں کسی قدر جارح اور باغی تھے۔ آج کا نوجوان اس حوالے سے دو ہاتھ آگے ہے۔ اس کا اظہار کا اپنا ہی ایک طریقہ کار ہے، جس سے ہم اختلاف تو کر سکتے ہیں، مگر بہرحال اسے قبول کر کے گزارا ہی کرنا پڑے گا۔
یہ یاد رکھیں کہ ہم جنریشن زی کے ساتھ انٹرایکشن کر کے، بات کر کے، ان سے مکالمہ کر کے اپنی بات انہیں سمجھا سکتے ہیں۔ ان کے موقف کو کچھ نرم اور منطقی بنا سکتے ہیں۔ ان میں توازن لانے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ یہ سب مگر حکمت اور سلیقے سے کرنا ہوگا۔ انہیں رد کر کے، پرے دھکیلنے کے بجائے، پیار سے، نرمی سے محبت سے ان کے دل جیتنا ہوں گے۔
اس سے پہلے مگر پوری غیر جانبداری سے، کھلے دل و دماغ کے ساتھ کسی تعصب کے بغیر ان کی بات سننا ہو گی۔
یہ بات ہمارے فیصلہ سازوں اور اشرافیہ کو جتنا جلد سمجھ آ جائے، اتنا ہی ملک و قوم اور ہم سب کے لیے اچھا ہو گا۔ ورنہ اپنے بچوں سے لڑی گئی جنگ جیت کر بھی ہم شکست خوردہ اور لوزر ہی رہیں گے۔

شیئر: