Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

علاقائی اور داخلی سکیورٹی صورتحال، وزیراعظم پاکستان کی زیرِصدارت اعلٰی سطح کا اجلاس

اجلاس میں پاکستان کے خطے میں امن کے قیام کے لیے کردار اور مختلف اقدامات زیرِغور آئے۔ (فوٹو: اے پی پی)
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور افغانستان کے ساتھ جھڑپوں کے پیش نظر وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت علاقائی اور پاکستان کی سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اعلٰی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔
پاکستانی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق اتوار کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اجلاس میں علاقائی و خطے کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان کے خطے میں امن کے قیام کے لیے کردار اور مختلف اقدامات زیرِغور آئے۔ اجلاس میں افغانستان کی صورتحال کا بھی بغور جائزہ لیا گیا، اور ملک کی داخلی صورت حال اور سکیورٹی انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلا کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان کی بحفاظت واپسی کے لیے دفتر خارجہ نے تفصیلی بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ آذربائیجان کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلا کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزرا احسن اقبال، محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طارق فاطمی اور اعلی سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاکت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں سکیورٹی اہلکار سمیت 23 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کی افواج کے درمیان سرحدی علاقوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
افغان حکام اور مقامی رہائشیوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اتوار کے روز تصدیق کی کہ دونوں جانب سے گولہ باری، ڈرون حملے اور فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

 

شیئر: