Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کاش پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے، عامر خاکوانی کا کالم

عمران خان کا بطور کرکٹر کردار بہت بڑا، اہم اور غیرمتنازع ہے (فوٹو: کرک انفو)
پاکستانی ٹیم سری لنکا سے میچ جیت کر بھی ایک طرح سے ہار گئی اور سیمی فائنل کوالیفائی نہ کر سکی۔ پاکستانیوں کے لیے بھی ورلڈ کپ ختم ہی ہوگیا ہے، بہت سوں کی اب سیمی فائنلز میں دلچسپی ہی نہیں رہے گی۔
میں انگلینڈ کے خلاف میچ اور پھر سری لنکا کے خلاف فیصلہ کن میچ دیکھتے ہوئے یہ سوچتا رہا کہ کاش پاکستانی کرکٹ ٹیم کے گورے کوچ مائیک ہیسن، تھکے ہارے کپتان سلمان علی آغا اور آل ان آل (ڈائریکٹر، چیف سلیکٹر اورنجانے کیا کیا) عاقب جاوید نے عمران خان کی کرکٹنگ ٹِپس اور تھیوریز پڑھی، سنی، سمجھی ہوتیں۔ کاش ایسا ہوتا تو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ شاندار، فاتحانہ اور قابل توقیر۔
عمران خان اب ایک فل ٹائم سیاستدان ہیں، ان کے سیاسی مداحین بھی بہت ہیں اورناقدین کی بھی کمی نہیں۔ آج کل وہ ٹف ٹائم سے گزر رہے ہیں، عمران خان کی سیاست کو ایک طرف رکھ دیں پھر بھی ان کا بطور کرکٹر کردار بہت بڑا، اہم اور غیرمتنازع ہے۔ ان کے مخالفین بھی مانتے ہیں کہ وہ پاکستان کرکٹ کا بہت بڑا نام ہیں۔
 پاکستانی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان جس نے نہ صرف ورلڈ کپ جیتا بلکہ پاکستان کرکٹ کو بہت کچھ دیا۔ وسیم اکرم، وقار یونس، عاقب جاوید، انضمام الحق، مشتاق احمد ، معین خان وغیرہ عمران خان کے بغیر کبھی نمایاں نہ ہوپاتے، کئی تو ٹیم میں بھی نہ آ سکتے۔ عبدالقادر جیسے لیگ سپنر کو عمران خان ہی نے استعمال کیا اور وہ لیجنڈ بنے۔
اسی عمران خان کی کرکٹ کے بارے میں تین نصیحتیں ایسی ہیں، ہمارے کوچ اور کپتان نے انہیں سنا ہوتا، ان پر عمل کیا ہوتا تو انڈیا کے ہاتھوں میں ہمیں شرمناک شکست نہ ہوتی۔ انگلینڈ سے ہم جیتا ہوا میچ نہ ہارتے اور پھر ہمیں سری لنکا کو زیادہ بہتر رن ریٹ سے ہرانےکا چیلنج ہی درپیش نہ ہوتا۔
میچ وننگ کھلاڑی لازمی کھلائے جائیں
عمران خان یہ بات کہا کرتے تھے کہ میں اپنی ٹیم میں سب سے پہلے میچ وننگ کھلاڑی شامل کرتا ہوں۔ ایسے جو امپیکٹ پلیئر ہوں، جو اپنے کھیل سے میچ کا پانسہ پلٹ دیں۔ ان کے کچھ ایشوز ہوسکتے ہیں، ٹمپرامنٹ ایشو یا کچھ اور، مگر ان کو ہینڈل کر کے میچ وننگ کھلاڑی لازمی کھلانے چاہئییں۔
اگر موجودہ ٹیم کے کپتان عمران خان ہوتے تو وہ ہر حال میں میچ وننگ سپنر ابرار احمد کو انگلینڈ کے خلاف ٹیم میں شامل کرتے۔ وہ فخر زماں کو انڈیا کے خلاف لازمی کھلاتے اور پھر سپر ایٹ کے تمام میچز کھلاتے کہ وہ امپیکٹ کھلاڑی، بڑے میچز جتوانے والا ہے۔ فخر زماں نے سری لنکا کے خلاف اوپننگ کی اور ایک غیر معمولی دھواں دھار اننگ کھیل کر کرکٹ مینجمنٹ کو بتا دیا کہ انہیں باہر بینچ پر بٹھائے رکھنا کس قدر بڑی حماقت تھی۔

پاکستانی ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نجانے کیوں آل راؤنڈرز کے اتنے شیدائی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اگر انگلینڈ کے خلاف ٹیم میں ابرار جیسا کوالٹی سپنر ہوتا تو عین ممکن تھا رزلٹ مختلف ہوتا۔ اچھے اور بڑے بولر کو بھی کسی میچ میں رنز پڑ سکتے ہیں، اس کا کوئی آف ڈے بھی ہوتا ہے، مگر بہرحال ایک کوالٹی بولر پھنسے ہوئے مشکل میچ جتوا سکتا ہے۔ ابرار کے پاس وہ کوالٹی اور ورائٹی ہے جس کا بیس پچیس فیصد بھی شاداب خان یا محمد نواز کے پاس نہیں۔ اس کے پاس کیرم گیند ہے، فنگر لیگ بریک، مسٹری گگلی، ٹاپ سپن اور پیس ویرایشن۔
 نواز تو سیدھی سادی گیندیں کرانے والا آرتھوڈاکس سپنر ہے، شاداب کے پاس لیگ بریک اور گگلی ہے، مگر اب دس سال کا بچہ بھی اس کی گگلی ریڈ کر لیتا ہے جبکہ شاداب رہی سہی کسر فل ٹاس گیند پر چھکے کھا کر پوری کر دیتا ہے۔
ٹیم کو سپیشلسٹ کھلاڑی ہی جتوایا کرتے ہیں
یہ سب سے اہم نکتہ ہے۔ ہر ٹیم کو سپیشلسٹ بلے باز اور سپیشلسٹ بولرز چاہیے ہوتے ہیں۔ یہی اصل فرق ڈالتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ آدھا تیتر آدھا بٹیر ٹائپ کھلاڑی آل راونڈر کے نام پر کھلا دیے جائیں۔ عمران خان نے ایک بار ایسے کھلاڑیوں کے بارے میں کہا کہ لاہوری کرکٹ میں انہیں ریلوکٹا کہا جاتا تھا یعنی ٹوٹے پھوٹے، کچے پکے آل راونڈر۔
پاکستانی ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نجانے کیوں آل راؤنڈرز کے اتنے شیدائی ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا ورنہ ٹیم می آٹھ دس آل راونڈر ہی کھلا دیں۔ یہ سادہ بات بھائی صاحب کی سمجھ میں نہیں آتی کہ پاکستان میں اس وقت ایک بھی جینوئن آل راونڈر موجود نہیں ہے۔ وائٹ بال آل راونڈر آسٹریلیا کا میکسویل، انڈیا کا ہاردک پانڈیا جیسے کھلاڑی ہوتے ہیں۔ ویسے عمران خان، آئن بوتھم، کپیل دیو، رچرڈ ہیڈلی ہی جینوئن آل راونڈرز تھے بعد میں جنوبی افریقہ کا جیک کیلس آیا جو عظیم آل راونڈر تھا۔ وہ بطور بلے باز بھی کسی ٹیم میں کھیل سکتا تھا اور بطور بولر بھی۔ یہی ایک جینوئن آل راونڈر ہوتا ہے۔

شاداب خان کا موازنہ اگر بطور بولر ابرار، عثمان طارق یا چلو سفیان مقیم ہی سے کیا جائے تو شاداب لازمی باہر ہوجائیں گے (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری آپشن میں آل راؤنڈر وہ ہے جو اپنی بیٹنگ یا بولنگ میں سے کم از کم ایک شعبے میں سپیشلسٹ کھلاڑی ہو اور اس حیثیت میں ٹیم میں شامل ہوسکے۔ جیسے وسیم اکرم تھے، وہ بطور بولر دنیا کی کسی بھی ٹیم میں شامل ہوسکتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اگر کچھ رنز کر لیتے تو وہ بونس ہوتا۔
اب شاداب خان کا موازنہ اگر بطور بولر ابرار، عثمان طارق یا چلو سفیان مقیم ہی سے کیا جائے تو شاداب لازمی باہر ہوجائیں گے۔ شاداب بطور بیٹر بھی ظاہر ہے ٹیم میں نہیں جگہ پا سکتے۔ نواز کا تو مزید برا حال ہے۔ انہیں کھلانے سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ کسی کوالٹی ٹیم کے خلاف بڑے میچ میں یہ نام نہاد آل راؤنڈرز ایکسپوز ہوجاتے ہیں۔ وہاں پھر سپیشلسٹ کھلاڑی ہی جتوا سکتے ہیں۔ وہ نہیں تو میچ گیا۔
سادہ اصول ہے کہ وائٹ بال میں گیارہ کھلاڑیوں میں سے چھ سپیشلسٹ بلے باز ہوں، ایک ان میں سے وکٹ کیپر ہو جبکہ پانچ سپیشلسٹ بولرز ہوں، ان میں سے ایک یا دو مناسب بیٹنگ کر سکتے ہوں تو گڈ ہے مگر ان کا سپیشلسٹ بولرز ہونا لازمی ہے۔ اسی طرح جو پانچ چھ سپیشلسٹ بلے باز ہیں، ان میں سے ایک آدھ پارٹ ٹائم باولر ہو تو وہ بونس ہے۔
اب پاکستانی ٹیم میں ہو یہ رہا ہے کہ اچھے سپیشلسٹ بیٹر کھلائے نہیں جا رہے جو ماڈرن ٹی20 کرکٹ کھیلنا جانتے ہوں اور جو فارم میں بھی ہوں۔ بیٹنگ چونکہ کمزور اور ناقابل اعتبار ہے تو نمبر سات، آٹھ، نو پر یہ نام نہاد آل راؤنڈرز کھلا لیے جاتے ہیں کہ چلو دس بیس رنز یہ بھی ڈال لیں گے۔
عمران خان ایسے میں یہ کہا کرتے تھے کہ اگر چھ سپیشلسٹ بلے باز ناکام ہوگئے تو پھر یقین کریں کہ اتنے پریشر میں نمبر سات، آٹھ والے ادھورے آل راؤنڈرز بھی کچھ نہیں کر سکیں گے۔ (ویسے یہ بات بے شمار بار درست ہوتے ہم نے خود دیکھی ہے)
بعض کھلاڑی اپنے اصل کردار کو بھول کر دوسری حیثیت میں کچھ پرفارم کر دیتے ہیں، مگر ان کی بھی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ اگلے روز محمد حفیظ نے یہی بات کی کہ وہ آل راؤنڈر تھے، مگر ٹیم مینجمنٹ نے انہیں کہا تھا کہ ان کا اصل کردار بطور بلے باز رنز کرنا ہے وہ اگر نہیں کر پایا تو بولنگ میں وکٹیں لینے کا کوئی فائدہ نہیں۔

عمران خان ایک بات کے شدت سے قائل تھے کہ کپتان کو فرنٹ سے لیڈ کرنا چاہیے (فوٹو: اے ایف پی)

یہی انگلش ٹیم میں فلنٹوف کے ساتھ کیا گیا۔ فلنٹوف بولنگ اچھی نہیں کر رہا تھا مگر بیٹنگ میں وہ ففٹیز کر رہا تھا، اسے کوچ نے کہا کہ تمہارا اصل کردار بطور بولر کھیلنا ہے۔ ففٹی بے کار ہے، اگر بولنگ میں وکٹیں نہیں لیتے۔ یہی بات شاداب اور نواز پر فٹ آتی ہے۔ ان کی پرفارمنس بطور بولر ہی دیکھی جائے، وہ بھی اچھی ٹیموں کے خلاف۔ نمیبیا کے خلاف پرفارمنس کا کیا فائدہ؟
پرفارمنس سے لیڈ کیا جاتا ہے، نمبر اوپر کرنے سے نہیں
عمران خان ایک بات کے شدت سے قائل تھے کہ کپتان کو فرنٹ سے لیڈ کرنا چاہیے۔ وہ ٹاپ پرفارمر ہو، تب ہی اس کی ٹیم میں عزت اور وقار قائم رہتا ہے۔ 1992 کے ورلڈ کپ میں آسٹریلوی کپتان ایلن بارڈر بری فارم میں تھا، وہ اپنے روٹین کے چار نمبر پرآنے کی جگہ نمبر چھ، سات پر کھیلتا تھا، اپنے سے پہلے دوسروں کو بھیج دیتا۔
عمران خان نے تب یہ طنز کیا کہ کرکٹ میں کپتان کے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں۔ اسے ہر حال میں فرنٹ سے لیڈ کرنا چاہیے۔ عمران خان نے 1992 کے ورلڈ کپ میں یہ ثابت بھی کر دیا جب مشکل ترین سیمی فائنل اور فائنل میں وہ ون ڈاؤن بیٹنگ کرنے آئے، جبکہ انہوں نے اپنے طویل کیریئر میں کبھی ون ڈاؤن بیٹنگ نہیں کی تھی۔ ویسے بھی یہ آسٹریلیا کی تیز باونسنگ، مشکل پچز تھیں۔ عمران خان نے دونوں میچز میں ففٹیز بنائیں اور جیت میں حصہ ڈالا۔
سلمان آغا عمران خان کی نقل میں ون ڈاؤن تو کھیلنے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں مگر اپنی بیٹنگ تکنیک بہتر نہیں کی، اپنے کھیل کو امپروو نہیں کیا۔ فرنٹ سے لیڈ ون ڈاؤن آنے سے نہیں ہوتا بلکہ ٹاپ پرفارمر بھی بننا پڑتا ہے۔ جیسے سلمان آغا کو انڈیا کے خلاف میچ میں پچ کو دیکھتے ہوئے سنگلز ڈبلز بنا کر وکٹ پر ٹھہرنا اور پارٹنر شپ بنانا چاہیے تھا۔ یہ کام اس دن انڈین کپتان سوریا کمار یادو نے کیا، حالانکہ وہ بہت تیز کھیلنے والا ہٹر ہے۔
انگلینڈ کے خلاف میچ میں انگلش کپتان بروک نے یہی کیا، اس نے اپنا بیٹنگ نمبر تبدیل کیا، اوپر آ کر کھیلا اور سینچری بنا کر میچ جتوا دیا۔ سلمان آغا اسی میچ میں ون ڈاؤن گیا، سوچے سمجھے بغیر ایک فضول شاٹ کھیلا اور وکٹ تھرو کر کے واپس آ گیا۔ ٹیم کو فرنٹ سے لیڈ کرنا یہ نہیں ہوتا۔

بابراعظم کو کچھ عرصے کے لیے ٹی20کرکٹ سے باہر رکھنا چاہیے (فوٹو: اے ایف پی)

ایک جزوی اصول یہ بھی سمجھ لیں اور عمران خان نے اس پر عمل درآمد بھی کرایا، وہ یہ کہ کھلاڑی خواہ کتنا ہی بڑا ہو، وہ اگر اچھی فارم میں نہیں، اس کا کھیل اپ ٹو مارک نہیں تو اسے ٹیم سے ڈراپ کر دینا چاہیے۔ عمران خان نے یہ مائٹی ماجد خان کے ساتھ کیا۔ ماجد خان کا وہ دوراختتام تھا، ان کی نظر اور اعصاب پہلے جیسے نہں رہے تھے، فارم بھی نہیں تھی۔ ماجد خان کا رعب اور قد اتنا بڑا تھا کہ کوئی انہیں ڈراپ کرنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ عمران خان کپتان بنے تو ماجد خان کو آرام سے ڈراپ کر دیا۔ ماجد خان اس پر بڑے ناراض ہوئے، ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا اور بعد میں بہت طویل عرصہ اپنے کزن عمران خان سے بولے بھی نہیں۔ عمران خان مگر کلیئر تھے کہ تب یہی فیصلہ لینا ٹیم کے حق میں تھا۔
یہی ظہیر عباس کے ساتھ بھی ہوا۔ عبدالقادر عمران خان کے فیورٹ تھے، مگر جب قادر کی فٹنیس کے ایشوز آئے، بولنگ نہیں ہو رہی تھی تو عمران خان نے عبدالقادر کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا اور نوجوان سپنر مشتاق احمد کو موقع دیا۔ پاکستانی سلیکشن کمیٹی کو اس ورلڈ کپ میں بابراعظم کو سلیکٹ ہی نہیں کرنا چاہیے تھا، وہ ماڈرن ٹی20 کرکٹ نہیں کھیل پا رہے، نئی چیزیں سیکھنے میں دقت ہو رہی ہے بلکہ سٹرائیک ریٹ کے دباؤ میں آ کر اپنی وکٹ گنوا دیتے ہیں۔
ایسے میں بابراعظم کو کچھ عرصے کے لیے ٹی20کرکٹ سے باہر رکھنا چاہیے تاکہ وہ فرسٹ کلاس کھیل کر پرفارمنس بہتر کرے۔ ویسے تو حارث رؤف کی طرح یہی شاداب خان اور شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ بھی کرنا چاہیے تھا۔
کاش پاکستان کوچ مائیک ہیسن، کپتان سلمان آغا نے عمران خان سے کچھ سیکھا ہوتا، انہیں اپلائی کرتے تو پاکستان ٹیم کا یہ حشر نہیں ہونا تھا، یہ شرمندگی اورندامت بھی نہ اٹھانا پڑتی۔ افسوس، صد افسوس۔

 

شیئر: