ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاکت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں سکیورٹی اہلکار سمیت 23 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
اتوار کو گلگت بلتستان کے دو بڑے شہروں گلگت اور سکردو میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے پرتشدد مظاہروں میں بدل گئے۔ اور مظاہرین نے غیرملکی دفاتر، سرکاری و عسکری املاک کو نقصان نذرِآتش کر دیا۔
مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں تصادم کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت کل 14 افراد ہلاک ہو گئے۔
مزید پڑھیں
گلگت ہسپتال میں سات جبکہ سکردو ہسپتال میں سات لاشیں لائی گئی ہیں۔ سکردو ہسپتال کی انتظامیہ نے بتایا کہ کل 45 زخمی ہسپتال میں داخل ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ناک ہے، جبکہ گلگت ہسپتال میں کل 14 افراد زیرِعلاج ہیں۔
سکردو میں بگڑتی صورت حال کے تحت کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور گلگت اور سکردو کے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گلگت میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔
کراچی میں شدید جھڑپیں
صوبہ سندھ کے داراحکومت کراچی میں ایرانی سپریم لیڈر کی امریکی حملے میں موت کے خلاف ہونے والا احتجاج اچانک پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہوگیا جس کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک اور 36 سے زائد زخمی ہوئے۔
آئی آئی چندریگر روڈ سے ٹاور تک جمع ہونے والے مظاہرین کی تعداد وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی دیر میں صورت حال کشیدہ ہونا شروع ہو گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو امریکی سفارت خانے کی حدود سے دور رکھنے کے لیے پہلے سے سییورٹی انتظامات موجود تھے، تاہم کچھ افراد نے آگے بڑھنے کی کوشش کی جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم شروع ہو گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ’مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔‘

سندھ پولیس اور پاکستان رینجرز کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مظاہرین کو پیچھے دھکیلا۔ ریسکیو حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
سول اسپتال کے ٹراما سینٹر کے عملے نے اردو نیوز کو بتایا کہ زخمی افراد میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اموات کی حتمی وجہ جاننے کے لیے میڈیکل رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں مظاہرین منتشر
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے ڈی چوک اور سرینا چوک کے اطراف میں موجود مظاہرین کو منتشر کر دیا جبکہ سری نگر ہائی وے دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے۔
سہ پہر کو مظاہرین آبپارہ کے قریب جمع ہوئے اور پھر ڈپلومیٹک انکلیو میں امریکی سفارت خانے کی جانب مارچ کیا۔
تاہم شرکا کی جانب سے آگے بڑھنے پر ریڈ زون کے داخلی راستے بند کر دیے گئے اور پولیس نے مظاہرین کی پیش قدمی روک دی۔ بعدازاں مظاہرین نے ڈی چوک کی طرف رخ کیا جہاں پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔
پولیس کی جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور دو مظاہرین کے ہلاک ہونے کی بھی غیرمصدقہ اطلاعات ہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں وزیر داخلہ محسن نقوی خود بھی پہنچے، جہاں انہوں نے مظاہرین کو پُرامن رہنے کی درخواست کی۔
مجموعی طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 بھی نافذ العمل ہے۔
لاہور: مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخل ہونے کی کوشش
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں شہریوں نے ایران کے سپریم لیڈر کی موت کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاج ریکارڈ کیا۔
احتجاج کے دوران مظاہرین لاہور پریس کلب کے قریب واقع امریکی قونصلیٹ میں داخل ہونے کی کوشش بھی کرتے رہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ریلیاں نکالی گئیں، غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد شیلنگ بھی کی گئی۔
اتوار کو سینکڑوں افراد لاہور پریس کلب کے باہر جمع ہوئے۔ مظاہرین میں بچے، بوڑھے، مرد اور خواتین شامل تھے۔ شرکا بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے نعرے بازی کر رہے تھے اور بعد ازاں امریکی قونصلیٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش بھی کی۔ پولیس نے مظاہرین کو آگے جانے سے روکا تاہم حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب بعض مظاہرین امریکی قونصلیٹ کے مرکزی دروازے تک پہنچ گئے۔
چند مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ کے گیٹ پر چڑھنے اور اسے آگ لگانے کی کوشش کی جس کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی۔

شملہ پہاڑی کے اطراف میں بھی پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے بھگدڑ مچ گئی اور لوگ مختلف اطراف میں منتشر ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق لاہور پریس کلب کے اندر بھی شیلنگ کی گئی جبکہ یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ امریکی قونصل خانے کے اندر سے شیلنگ کی گئی۔
ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر زخمی مظاہرین کو طبی امداد فراہم کی تاہم زخمیوں کی تعداد سے متعلق ریسکیو یا پولیس حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
اسی تناظر میں حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں سات روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔











