Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

 پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے مجموعی واقعات میں سے 80 فیصد خیبر پختونخوا میں پیش آئے، جس کی بنیادی وجہ وہاں دہشت گردوں کے لیے سازگار سیاسی ماحول اور سیاسی و دہشت گردانہ عناصر کے درمیان بڑھتا ہوا گٹھ جوڑ ہے۔ ا
ان کے مطابق یہی ماحول شدت پسند گروہوں کو منظم ہونے، سہولت کار نیٹ ورکس بنانے اور ریاستی رٹ کو مسلسل چیلنج کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس کے اثرات پورے ملک کی سکیورٹی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو محض فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود سمجھنا ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گردوں کے خلاف آج اجتماعی طور پر کھڑے نہ ہوئے تو یہ عناصر گھروں، بازاروں، گلیوں، دفاتر اور سکولوں تک اپنی کارروائیاں لے آئیں گے۔ 
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور اس نکتے پر ریاست اور عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔
’افغانستان دہشت گردی کا بیس آف آپریشن بن چکا ہے‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ دو دہائیوں سے جاری ہے، تاہم اب یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ افغانستان پورے خطے میں دہشت گرد تنظیموں کا مرکزی بیس آف آپریشن بن چکا ہے۔ ان کے مطابق مختلف عالمی اور علاقائی دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جبکہ انڈیا ان گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے، جو علاقائی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
’گزشتہ سال 27 خودکش حملے ہوئے، اکثریت خیبر پختونخوا میں تھی‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ برس ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے رپورٹ ہوئے، جن میں سے 16 خیبر پختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ہوا، جبکہ ان حملوں میں دو خواتین خودکش بمبار بھی شامل تھیں۔ ان کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے میں دہشت گردی کے لیے موافق حالات موجود رہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فوج، پولیس، فرنٹیئر کور اور انٹیلی جنس اداروں نے گزشتہ سال مجموعی طور پر 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، جن میں سے 14 ہزار 658 خیبر پختونخوا اور 58 ہزار 778 بلوچستان میں کیے گئے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 1 ہزار 235 افسران اور جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

گذشتہ سال اسلام آباد میں ایک خودکش بم دھماکہ ہوا (فوٹو: اے ایف پی)

’انسداد دہشت گردی میں ریاستی حکمت عملی کے نتائج سامنے آ رہے ہیں‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چند برس قبل صورتحال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مقابلے میں تین سکیورٹی اہلکار شہید ہوتے تھے، تاہم بہتر انٹیلی جنس، ٹارگٹڈ آپریشنز اور مربوط حکمت عملی کے باعث اب یہ تناسب تبدیل ہو چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں، جو ریاستی انسداد دہشت گردی پالیسی کی مؤثریت کا ثبوت ہے۔
’شام سے اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں‘
افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انکشاف کیا کہ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریباً اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان منتقل ہو چکے ہیں، جن میں ایک بھی پاکستانی شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور تحریک طالبان پاکستان جیسے دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانے موجود ہیں، جو پورے خطے کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے وقت چھوڑا گیا جدید اسلحہ اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے، جس سے پاکستان سمیت پورے خطے میں سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے اور دہشت گرد گروہوں کی عسکری صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

2025 میں سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

’انڈیا دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الزام عائد کیا کہ انڈیا خطے میں دہشت گرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں مالی وسائل، اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور یہ عمل علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سول بس، خضدار میں سکول بس، فیڈرل کانسٹیبلری اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ سکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس شامل ہیں۔ ان تمام واقعات میں افغان دہشت گرد ملوث پائے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر سخت اقدامات کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی۔
’خوارج مساجد اور عوامی مقامات کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں‘
پریس کانفرنس کے دوران گرفتار دہشت گردوں کے بیانات بھی نشر کیے گئے جن میں انہوں نے افغانستان میں تربیت اور وہاں موجود نیٹ ورکس کے کردار کا اعتراف کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خوارج آرمڈ کواڈ کاپٹرز اور ڈرونز کے ذریعے حملے کرتے ہیں، مساجد، گھروں اور عوامی مقامات کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور بچوں و خواتین کو انسانی ڈھال بنایا جاتا ہے، تاہم پاک فوج صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔
آخر میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو فوج کے کھاتے میں ڈالنے کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پوری قوم کی جنگ ہے اور اگر دہشت گردی کے ناسور کو بروقت ختم نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں سکولوں، بازاروں، دفاتر اور گلیوں میں حملے معمول بن سکتے ہیں، تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست، سکیورٹی ادارے اور عوام متحد ہیں اور اسی قومی یکجہتی سے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیتی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ برس ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے رپورٹ ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

دہشت گردی کے خلاف جنگ: سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک بیانیہ
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا اس سال پیغام پاکستان کا اعادہ کیا گیا۔ یہ کلیئرٹی علما اور مشائخ کو بھی ہے۔ دوسری کلیئرٹی ہندوستان اور فتنہ الخواج کے نیکسز کے بارے میں آئی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا۔ ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’وزیر اعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے،  یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے۔ یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں۔ وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے، کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے، اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اللہ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا۔‘

شیئر: